بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

اسلام آباد کی سرکاری یونیورسٹی میں نوجوان طالبعلم کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا‎‎

datetime 20  جون‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی) بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی میں قائد اعظم یونیورسٹی کے طالب علم کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا انکشاف ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق کے مطابق دو روز قبل اسلام آباد کی اسلامک یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رہائش پذید قائد اعظم یونیورسٹی کے طالب علم کو بدفعلی کا نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ طالب علم نے جب خود کوبچانے کی کوشش کی تو یونیورسٹی کے ہاسٹل میں

موجود چند طلباء کو واقعہ کا علم ہوا اور بات انتظامیہ کے علم بھی آگئی۔یونیورسٹی ہاسٹل میں مبینہ طور پر طالب علم کا جنسی استحصال کرنے کے الزام میں انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے دو طلبہ کو جامعہ سے نکال دیا گیا ہے، متاثرہ طالبعلم قائداعظم یونیورسٹی سے تعلق رکھتا ہے جو دیگر دو طلبہ سے ملنے ہاسٹل جا رہا تھا۔ نجی ٹی وی کے مطابق انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کے سینئر عہدیدار ماسون یاسین زئی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں طلبہ سوشل میڈیا کے ذریعے متاثرہ طالبعلم سے رابطے میں تھے۔انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ جمعہ کو علی الصبح پیش آیا، متاثرہ لڑکا ہاسٹل سے نکلا اور فوراً فرش پر گر پڑا جسے دیکھ کر محافظ بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا، ہاسٹل میں موجود سیکیورٹی آفیسر جائے حادثہ پر پہنچے اور طالب علم کو ہسپتال لے گئے۔یونیورسٹی کے سینئر عہدیدار نے مزید بتایا کہ واقعہ کی تصدیق اس وقت ہوئی جب سیکیورٹی آفیسر نے ہاسٹل میں چھاپہ مارا، لڑکے کا استحصال کرنے والے دونوں افراد غیرقانونی طور پر وہاں مقیم تھے کیونکہ ان کے ناموں پر کمرہ تفویض نہیں کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ لڑکے سے بدفعلی کرنے والے دونوں طلبہ انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کے طالبعلم تھے جنہیں یونیورسٹی سے نکال دیا گیا ہے،اسٹوڈنٹس ڈسپلنری کمیٹی کے سربراہ کو بھی برطرف کردیا گیا۔ماسون یاسین زئی نے کہا کہ ہاسٹل میں غیرمتعلقہ اور باہر کے افراد کے داخلے پر یونیورسٹی کے سربراہ بھی اپنی ملازمت گنوا سکتے ہیں، سیکیورٹی انچارج سے بھی اس بارے میں سوال کیا گیا تھا کہ طلبہ ہاسٹل میں کیسے رہ رہے تھے؟۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا واقعہ کی ایف آئی آر درج کی گئی ہے تو انہوں نے بتایا کہ متاثرہ لڑکا اس معاملے کی پیروی نہیں کرنا چاہتا، جب خود متاثرہ فرد ہی معاملے کی پیروی نہیں کرنا چاہتا تو ہم اس معاملے کو کیسے آگے لے جا سکتے ہیں۔انہوں نے تمام ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پیر کو اس واقعے کی ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے گی اور اس شرمناک واقعے کے ذمے دار ہر فرد کو سزا دے کر مثال بنایا جائے گا۔ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تین سیکیورٹی عہدیداروں سے تفتیش کی جارہی ہے اور اس واقعے میں ملوث دیگر افراد کے نام بھی منظر عام پر آنے کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…