جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

عمران خان کو بزدل حکمران سمجھتے ہیں،انصاف نہ ملا تو اگلا ہدف اسلام آباد ہو گا، طاہر القادری نے وزیراعظم کو للکار دیا

datetime 17  جون‬‮  2021 |

نارووال(این این آئی)تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے کہا ہے کہ ظالموں کی حکومت میں انصاف نہ ملنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن عمران خان ہمارے ساتھ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ وہ انصاف دلائیں گے،انہوں نے انصاف تو دور کی بات کبھی شہدا ء کے لئے 3 سالوں میں ہمدردی کا ایک بول نہیں

بول سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نارووال میں پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے ظفروال بائی پاس سے چوک فاروقی حسینی تک شہدا ئے سانحہ ماڈل کے حق میں احتجاجی مظاہرہ سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے کہا کہ عمران خان اگر یہ کہیں کہ عدالتیں ان کے اختیار میں نہیں ہیں تو جو ان کے دائرہ اختیار میں ہے وہ افسران اور ملازمین جو ملوث ہیں ان کو برطرف کرکے سزا دلوا سکتے ہیں لیکن انہوں نے جو وعدہ کیا وہ وفا نہیں کیا،7 سال گزر گئے شہدا ء ماڈل ٹاؤن کو انصاف نہیں ملا۔ نواز شریف دور میں انصاف نہ ملنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن 3 سال سے عمران خان نے بھی شہدا ء کے انصاف کے لئے کچھ نہیں کیا گیا،(ن)لیگ نے اپنے دور میں گلو بٹ پیدا کئے گئے 14 شہدا ء کے اہل خانہ کو ابھی تک انصاف نہیں ملا لیکن ریاست مدینہ بنانے والے بھی انصاف نہیں کر سکے،ہم عمران خان کو بزدل حکمران سمجھتے ہیں اگر انصاف نہ ملا تو اگلا ہدف اسلام آباد ہو گا،عمران خان انصاف دینے کا وعدہ وفا نہیں کر سکے،چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف ہمیں انصاف دلائیں۔  ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے کہا ہے کہ ظالموں کی حکومت میں انصاف نہ ملنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن عمران خان ہمارے ساتھ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ وہ انصاف دلائیں گے،انہوں نے انصاف تو دور کی بات کبھی شہدا ء کے لئے 3 سالوں میں ہمدردی کا ایک بول نہیں بول سکے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…