منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

حکومت نے جسٹس فائز عیسیٰ کی حمایت سے دستبردار نہ ہونے پر وکلاء کی گرانٹ رو ک دی،سابق صدر سپریم کورٹ بار کا تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 16  جون‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ روایتی طور پر ہر مالی سال کے اختتام پر وفاقی حکومت پاکستان بار کونسل،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن و ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن و صوبائی دارالحکومتوں کے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن و دیگر کئی بار ایسوسی ایشن کو ”گرانٹ ان ایڈ”کے

مد میں معمول کے مطابق سالانہ ایک متعین رقم وزارت قانون و انصاف کے توسط سے دیتی آئی ہیں۔ مگر بدقسمتی سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس داخل کرنے کے بعد جون 2018 میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن و پاکستان بار کونسل سمیت کئی دیگر بار ایسوسی ایشنز و بار کونسلوں کی اس ریفرنس کے خلاف واضح موقف اور مزاحمت کی وجہ سے ان اداروں کے قانونی استحقاق کو مجروح کرتے ہوئے پاکستان کے سب سے بڑے وکلاء کے نمائندہ اداروں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن و پاکستان بار کونسل کو نظرانداز کرتے ہوئے مشروط پیشکش کی کہ اگر وہ سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ کی حمایت سے دستبردار ہوجائیں تو معمول کے گرانٹ ان ایڈ سے کہیں زیادہ رقم وصول کرسکتے ہیں مگر الحمد و للہ اس پیشکش کو مجھ سمیت پاکستان بار کونسل نے 2018 سے لیکر آج تک پزیرائی نہیں دی مگر وفاقی حکومت اس وقت سے آج تک ہر سطح پر وکلاء کے اداروں کے امداد کے نام پر سیاسی

رشوت اور ان کے اوپر عدلیہ کی آزادی پر سمجھوتہ کرنے کی مشروط امداد کی کوششیں قابل افسوس اور ملک کے آزاد بارز کی خود مختاری پر حملہ اور ناروا قدغن آئین و قانون سے ماورائے و قابل گرفت ہیں ،مزید براں لاہور بار کے ایگزیکٹو کمیٹی کی جانب سے ایسی ہی قرارداد

ہمارے موقف کی تائید ہے کہ کچھ افراد مجموعی قومی و ملکی مفاد کے اجتماعی مقاصد کو بالائے طاق رکھ کر وقتی مفادات کے طابع چند سکوں کی خاطر خوشامدانہ قراردادیں منظور کرنا متعلقہ بار کی بے توقیری و عدلیہ کی آزادی و بلوچستان کے حق پر اپنی نادان پست ذہنیت کی عکاس سطحی اقدام قابل افسوس ہے جس پر سرینا عیسیٰ کی تشویش بھی قابل لحاظ و توجہ و پزیرائی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…