منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

ڈکیتی کا ملزم ضمانت پر رہا ہوکر دوبارہ بینک لوٹنے پہنچ گیا

datetime 13  جون‬‮  2021 |

واشنگٹن (این این آئی) امریکی ریاست نیویارک کے ایک بینک میں ڈکیتی کرنے والے شخص کو ضمانت پر رہائی ملی تو ملزم بغیر وقت ضائع کیے دوبارہ ڈکیتی کی واردات کرنے پہنچ گیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق بینک ڈکیتی کی دلچسپ واردات امریکی ریاست نیویارک کے

شہر نیویارک میں پیش آئی جہاں ایک ملزم نے منگل کے روز بینک میں داخل ہوکر کیشئر کو پرچی دی جس پر لکھا تھا کہ میرے پاس پستول ہے اور میں بینک لوٹنے آیا ہوں، میرے بیگ میں پیسے بھر دوں، یہ پیسے میں استعمال کروں گا۔بینک ملازم نے 2300 ڈالر(تقریبا ساڑھے تین لاکھ روپے)کی رقم ڈکیٹ کے حوالے کی، جسے لیکر وہ بینک سے نکلا مگر بدقسمتی سے کچھ دیر بعد ہی پولیس نے ڈکیت کو گرفتار کرلیا۔پولیس نے ملزم کو عدالت میں پیش کیا تو ملزم کے وکیل نے اسے ضمانت پر رہائی دلوا دی۔ملزم نے بغیر کوئی وقت ضائع کیے عدالت سے نکلتے ہی ڈکیتی کی نیت سے اسی بینک کی دوسری برانچ کا رخ کیا اور بینک سے محض 100 ڈالر (تقریبا 1500 روپے)کی معمولی رقم لوٹی لیکن اس مرتبہ پھر قسمت نے ساتھ نہ دیا اور ملزم بینک سے باہر نکلنے کے کچھ لمحوں بعد پولیس کے ہاتھوں دوبارہ گرفتار ہوگیااورحوالات میں بند کردیاگیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…