منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

سندھ کے ساتھ کی جانے والی ناانصافی وزیراعظم عمران خان کو شکایتوں بھرا خط لکھ دیاگیا

datetime 6  جون‬‮  2021 |

کراچی /اسلام آباد (این این آئی)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ کے ساتھ کی جانے والی ناانصافی پر وزیراعظم عمران خان کو شکایتوں بھرا خط لکھ دیا۔وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ تحریک انصاف سندھ سے تعصب برت رہی ہے اور سندھ کے عوام کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے۔خط کے متن کے مطابق وفاقی ترقیاتی منصوبوں میں سندھ کو نظر انداز کردیا گیا،

وزیراعظم سندھ کو محروم کرنے کے بجائے اسے حق دیں۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اپنے خط میں کراچی میں پانی کی فراہمی کے منصوبے ‘کے فور’ کے مکمل نہ ہونے سے متعلق خدشات کا اظہارکیا ہے اورسندھ کے لیے ترقیاتی بجٹ بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔دریں اثناء وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اسکول کھولنا ہے تو تمام اساتذہ کو ویکسین لگانا ہوگی ،کوئی دکاندار دکان کھولنا چاہتا ہے تو ویکسین لگوائے ،جلد صوبے میں بحالی کی طرف جائیں گے اورپابندیاں ختم ہوں گی، سب کو ویکسینیشن کرانی چاہیے، جو سرکاری ملازمین ویکسین نہیں لگائیں گے ان کی تنخواہیں روکیں گے، وفاقی کی جانب سے 7 سال میں سندھ کو کوئی اسکیم نہیں دی گئی، اس بار بھی بجٹ میں سندھ کو نظر انداز کیا جارہا ہے، وفاق کو خط لکھا تو لگتا ہے بہرے لوگوں سے بات کررہا ہوں ۔ اتوار کو ایکسپو سینٹر ہال نمبر 3 میں کووڈ ویکسینیشن سینٹر کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں کورونا کی ویکسینیشن کا عمل 3 فروری 2021 میں شروع کیا گیا، اور اب تک مجموعی طور پر 13 لاکھ افراد کو ویکسین لگا چکے ہیں، کراچی میں اب تک 8 لاکھ لوگوں کی ویکسینیشن ہوچکی ہے، اور تقریباً 90 فیصد فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو ویکسین لگ چکی ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے میں یومیہ 2 لاکھ ویکسینیشن کرانے کا ہدف ہے، ہم نے تقریباً3 کروڑ لوگوں کی ویکسی نیشن کرنی ہے، پوری دنیا میں معمولات زندگی بحال ہو رہے ہیں، اگر ہم نے معمولات زندگی بحال کرنے ہیں تو شہریوں سے درخواست ہے کہ ویکسین لگوائیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ جلد صوبے میں بحالی کی طرف جائیں گے اورپابندیاں ختم ہوں گی، سب کو ویکسینیشن کرانی چاہیے، جو سرکاری ملازمین ویکسین نہیں لگائیں گے ان کی تنخواہیں روکیں گے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ عوام ویکسین لگانے کے بعد بھی ایس او پیز پر عمل در اذمد کریں اور حکومت کی مدد کریں تاکہ بحالی کی طرف جائیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی میں کیسز زیادہ ہے مگر شرح کم ہوئی ہے،کراچی اتنا گنجان ہے کہ اس میں ایس او پیز پر عمل درآمد ممکن نہیں،وبا موجود ہے، ہمیں احتیاط جاری رکھنی ہیں، اگر اسکول کھولنا ہے تو تمام اساتذہ کو ویکسین لگانا ضروری ہے،اگر کوئی دکاندار دکان کھولنا چاہتا ہے تو اسے ویکسین لگانا ہوگی،ہم ریڈ لسٹ میں اس لیے ہیں کہ ہمارییہاں ویکسینیشن نہیں ہوئی۔انہوںنے کہاکہ فرنٹ لائن ورکرز نے جس طرح کام کیا ہے انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ہم پولیس کو بھی 75 فیصد

ویکسینیٹ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹاسک فورس میں ہم مل کر متفقہ فیصلے کرتے ہیں، ٹاسک فورس میں پولیس رینجرز، ڈاکٹر اور سب موجود ہوتے ہیں،لوگوں کو اگر کوئی تکلیف ہو تی ہے تو اس کے لیے معذرت کرتا ہوں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ 7 سال میں سندھ کو کوئی اسکیم نہیں دی گئی، اور اس بار بھی بجٹ میں سندھ کو نظر انداز کیا جارہا ہے، ہم نے جب وفاق کو خط لکھا تو لگتا ہے بہرے لوگوں سے بات کررہا ہوں، خط میں لکھا ہے کہ وفاقی حکومت سندھ کے ساتھ تعصب برت رہی ہے،

یہاں کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے، وفاقی ترقیاتی منصوبوں میں سندھ کو نظر انداز کردیا گیا ہے، پنجاب کے سڑکوں کے منصوبوں کے لیے وفاق نے پیسے دیئے، ہمیں پنجاب اور خیبرپختون خوا بلوچستان میں ترقی پر خوشی ہے تاہم سندھ کے ساتھ ایسا سلوک کیوں ہے۔مرادعلی شاہ نے کہا کہ پانی کے معاملے کو اسمبلی میں لے کر گیا تھا تمام جماعتیں متفق تھی کہ سندھ سے زیادتی ہورہی ہے، لیکن حکومت کہہ رہی ہے پانی دیا جارہاہے آپ خود چوری کررہے ہیں، وزیراعظم سے کہا ہے یہاں ڈوپلیکیشن کا خطرہ ہے کیونکہ سندھ حکومت کواعتماد میں نہیں کیا جارہا، پرامن احتجاج کرنے والوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…