پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

شہبازشریف کو بیرون ملک جانے سے روک کر بادی النظر میں حکومت نے توہین عدالت کی ، سپریم کورٹ ‎‎

datetime 25  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو بیرون ملک جانے سے روکنے کے لیے وفاقی حکومت کی اپیل کو ابتدائی سماعت کے لیے منظور کرلیا۔جیو نیوز کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل

2 رکنی بینچ نے شہبازشریف کو بیرون ملک جانے سے روکنے کیلئے وفاقی حکومت کی اپیل پر سماعت کی جسے عدالت نے ابتدائی سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیا۔دورانِ سماعت اٹارنی جنرل نے کہا کہ مسئلہ کسی کے بیرون ملک جانے کا نہیں عدالتی طریقہ کار کا ہے، جس رفتار سے عدالت لگی اور حکم پرعملدرآمد کا کہا گیا وہ قابل تشویش ہے، ہائیکورٹ میں جمعتہالوداع کے روز اعتراضات لگے اور دوربھی ہوئے اور لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے یکطرفہ فیصلہ دیا۔اس پر عدالت نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف حکومتی اداروں نے اقدام کیا، بادی النظر میں حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی توہین کی۔جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ شہبازشریف نے ہائیکورٹ سے درخواست واپس لے لی ہے، درخواست واپس ہونے کے بعد وفاق کی اپیل کیسے سنی جاسکتی ہے؟ شہبازشریف کا بیرون ملک جانے کا معاملہ تو ختم ہوگیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ لاہورہائیکورٹ کے حکم کی توہین ہوئی یا نہیں، حیرت ہے ہائیکورٹ نے فریقین کو سنے بغیر فیصلہ کیسے دے دیا۔بعد ازاں عدالت نے شہبازشریف کو نوٹس جاری کردیا اور رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ سے تمام ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت آئندہ بدھ تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…