پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

بنگلہ دیش نے اسرائیل کے حوالے سے پاسپورٹ میں بڑی تبدیلی کردی

datetime 23  مئی‬‮  2021 |

ڈھاکہ (این این آئی)بنگلادیش اوراسرائیل کے سفارتی تعلقات ابھی قائم نہیں ہوئے تاہم بنگلادیش نے اپنے پاسپورٹ میں خاموشی سے بہت اہم تبدیلی کردی ہے۔تفصیلات کے مطابق بنگلادیش کے پرانے پاسپورٹ پر لکھا جاتا تھا کہ یہ سفری دستاویز سوائے اسرائیل تمام ممالک کیلئے جائز ہے تاہم اب اس میں سے سوائے اسرائیل کے دو اہم ترین

الفاظ نکال دئیے گئے ہیں۔بنگلا حکومت کی جانب سے عوام کو بتایا گیا تھا کہ اب انہیں ای پاسپورٹ جاری کیا جائے گا تاہم یہ بتانے سے گریز کیا گیا تھا کہ اس میں اسرائیل کے حوالے سے کوئی تبدیلی رونما کی جائے گی۔جاری کیے جانے والے نئے پاسپورٹس پر جب یہ تبدیلی عوام کی نظروں سے گزری تب حکوت نے اس بات کا اقرار کیاکہ ملک کی جانب سے جاری سفری دستاویز میں سے سوائے اسرائیل کے الفاظ نکال دیے گئے ہیں اور یوں یہ پاسپورٹ تکنیکی طورپر تمام ممالک کے لیے جائز بن چکا ہے۔دوسری جانب بنگلا دیشی وزیر خارجہ ڈاکٹر اے کے عبدالمومن نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے جارہے اور نہ ہی بنگلا دیشی حکومت اسرائیل کو تسلیم کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے۔انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ پاسپورٹ میں سے سوائے اسرائیل کے الفاظ نکالنے کا مطلب یہ نہیں کہ اسرائیل کے معاملے پر بنگلا دیش کے مؤقف میں تبدیلی لائی گئی ہے، بنگلادیشی شہریوں کے اسرائیل سفر پر پابندی برقرار ہے۔سوائے اسرائیل جیسے دو الفاظ کو پاسپورٹ سے حذف کرنے سے متعلق پوچھے جانے والے سوال پر ڈاکٹر عبدالمومن کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ قومی شناخت ہوتا ہے اوریہ خارجہ پالیسی کا عکاس نہیں ہوتا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پوری دنیا میں کسی بھی پاسپورٹ پر ایسے الفاظ نہیں اس لئے بنگلا دیشی پاسپورٹ کو عالمی معیار کے مطابق بنایا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…