پیر‬‮ ، 13 اپریل‬‮ 2026 

حکومت کا رائس پراسیسنگ ملز کو صنعت کا درجہ دینے کا فیصلہ

datetime 23  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد (آن لائن ) ملک کی دوسری بڑی اجناس چاول کی برآمدگی سے سالانہ 5 ارب ڈالر ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے، بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی چاول کی برانڈنگ اور رجسٹریشن کرکے فروخت کو بڑھایا جائے گا، حکومت کارائس پراسیسنگ ملز کو صنعت کا درجہ دینے کا فیصلہ۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے چاول

کی بر آمدات بڑھانے کے لیے رائس پراسیسنگ ملز کو صنعت کا درجہ دینے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔گزشتہ روز وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے آ ن لائن اعلی سطحی اجلاس میں قومی سیکیورٹی ڈویڑن کے متعارف کروائے جانے والے اکنامک آوٹ ریچ اقدامات(ای او آئی)کے تحت مقرر کردہ اہداف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ میڈیارپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں رائس پراسیسنگ ملز کو صنعت کا درجہ دینے کے لیے تمام ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے پر اتفاق ہوا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی اس حوالے سے متعدد اجلاس ہوچکے ہیں اور توقع ہے کہ اس بارے میں فیصلہ جلد ہوجائے گا، کیونکہ وزیراعظم کے قومی سیکیورٹی ڈویڑن کے متعارف کروائے جانے والے اکنامک آ وٹ ریچ اقدامات(ای او اائی)کے تحت اس شعبے کو بہت یادہ اہمیت دی جارہی ہے، جب کہ وزیراعظم عمران خان خود بھی اس معاملے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں چاول کی فروخت کے میکنزم کے بارے بھی تبادلہ خیال ہوا تاکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی چاول کی برانڈنگ اور رجسٹریشن کرکے فروخت کو بڑھایا جائے، اجلاس میں بتایا گیا کہ رائس ملز کو صنعت کو درجہ دینے سے اس شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی اور ویلیو ایڈیشن میں جدت آئے گی جس سے

چاول کی برآ مد بڑھے گی۔اوراگلے چار سال تک چاول کی برآ مد پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف ہے، جب کہ گذشتہ مالی سال کے دوران پاکستان نے مجموعی طور پر دو ارب دس کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کا چاول برآمد کیا ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ چاول کا شمار ملک کی دوسری بڑی اجناس کے طور پرہوتا ہے لیکن رواں مالی سال کے دوران چاول کی برآمد میں کمی واقع ہوئی ہے اور گذشتہ مالی سال کے مقابلہ میں اس سال چاول کی برآمد کم ہوئی

ہے جس کی تین بنیادی وجوہات ہیں جن میں پہلی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کے مقابلہ میں بھارتی چاول کی قیمت میں کمی ہے، دوسری بڑی وجہ چاول کی ترسیل کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ میں کرایوں میں بے تحاشہ اضافہ جب کہ تیسری بنیادی وجہ کووڈ-19ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سال چاول کی برآمدات دو ارب ڈالر سے کم رہنے کی توقع ہیاور پاکستان نے دس سال بعد عراق کو بھی چاول کی برآمد شروع کردی ہے جب کہ پاکستانی چاول کی سب سے بڑی مارکیٹ چین، کینیااوراب عراق، یورپ، امریکاو ملائشیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…