اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

پیارے نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ یہ 2 گناہ ایسے ہیں جن کی  وجہ سے دنیا میں ہی انسان پر سخت عذاب نازل ہوتا ہے

datetime 18  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )نبی ﷺ کافرمان ہے ہر گناہ کی سزا اللہ تعالیٰ مؤخر کردیتا ہے جس کو چاہتا ہے قیامت کے دن تک سوائے ظلم اور والدین کی نافرمانی کے یا رشتہ توڑنے کے کیونکہ اس کی سزا اللہ موت سے پہلے گناہگار کی زندگی میں ہی دے دیتا ہے اسی حوالے سے ایک دوسری جگہ نبی کریم ﷺ کافرمان ہے دو گناہ ایسے ہیں جن کی سزا دنیا میں ہی دی جاتی ہے وہ ظلم اور

والدین کی نافرمانی ہے۔ ایک اور حدیث میں نبی ﷺ کافرمان ہے ظلم اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی ایسا گناہ نہیں جس کا مرتکب زیادہ لائق ہے کہ ا س کو اللہ کی جانب دنیا میں بھی جلد سزا دی جائے اور آخرت کے لئے بھی اسے باقی رکھاجائے۔ مذکورہ احادیث میں تین گناہوں کا ذکر ہے جن کے بارے میں خبر دار فرمادیا کہ یہ تین گناہ ایسے ہیں جن کی سزا اسی دنیا کی زندگی میں بہت جلد انسان کو مل جاتی ہے ان گناہوں کا جو وبال اور عذاب آخرت میں ہونا ہے وہ اپنی جگہ باقی رہتا ہے جن گناہوں کی سزا اللہ نے دنیا میں بھی رکھی ہے ان میں سے ایک والدین کی نافرمانی اور ان کو تکلیف پہنچانا ہے۔ اس سلسلے میں بھی نبی کریم ﷺ کے چند فرامین ہیں مذکورہ بالا احادیث کی روشنی سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی نافرمانی اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے ایسے گناہگار کو اللہ دنیا میں سخت سزادیتا ہے تا کہ ماں باپ بھی نافرمان اولاد کی سزادیکھ لیں جنہوں نے اس کی پرورش کے لئے رحم و کرم کا بازو بچھا دیا تھا۔ اور جب اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا خود کمانے کھانے لگاتو اب ماں باپ کے سارے احسانات بھلا کر نافرمانی اور انہیں تکلیف دینے پر اتر آیا یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ والدین کی نافرمانی کی سزا اس قدر سنگین ہے کہ دنیا میں بھی ایسے گناہ گاروں کو ملول کیاجاتا ہے جب کہ اور بھی سنگین گناہ ہیں مگر ان کے متعلق ایسی بات نہیں ملتی گناہ کبیرہ میں بھی والدین کی نافرمانی شامل ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی سزا دنیا میں ہی شروع ہوجاتی ہے جو آخرت تک چلتی رہے گی یہ بات والدین کی نافرمانی سے متعلق احادیث پر نظر کرنے سے معلوم ہوتی ہے قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے ساتھ والدین کی اطاعت کا حکم دیا یعنی حقوق اللہ کے بعد حقوق والدین کا درجہ ہے حدیث میں نبی ﷺ نے والدین کی نافرمانی کو شرک کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ نافرمان اولاد کی دنیاوی سزا میں جہاں اولاد کے لئے عبرت کا سامان ہے وہیں اس میں دنیا والوں کے لئے بھی درس و نصیحت ہے تا کہ کوئی اولاد ماں باپ کا حق ان کی خدمت سے منہ نہ پھیرے ان کو کھلانے پلانے اور ان پر غضب نہ کرے خاص طور پر جب دونوں بوڑھے ہوجائیں تو دیکھ بھال میں کوئی کوتاہی نہ کرے کام کاج کرنے اور کھانے سے معذور ہوجائیں تو ایسے وقت میں اولاد ان کی مکمل نگہداشت کرے وقت پر کھانے کا انتظام کرے جو خود کھائے انہیں بھی کھلائے ۔ مگر عام طور سے بوڑھے ماں باپ کی خدمت میں کوتاہی دیکھنے کو ملتی ہے خود بھی والدین کی خدمت سے جی چراتے ہیں اور اپنی اولاد کو بھی کسی کام پر ان کی مدد کرنے سے منع کرتے ہیں۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…