جوان بیوہ عالمہ پر بااثر افراد کا ظلم، مارپیٹ کرکے برہنہ حالت میں مبینہ ویڈیو بھی بنا لی، سفاکیت پر انسانیت بھی شرما گئی

  اتوار‬‮ 16 مئی‬‮‬‮ 2021  |  21:01

ایبٹ آباد(آن لائن)تھانہ سٹی کی حدود دھیری میں جوان العمر بیوہ عالمہ پر ظلم کا پہاڑ توڑتے ہوئے بااثر افراد نے برہنہ و تشدد کرکے مبینہ ویڈیو بنالی،28رمضان المبارک کو ملزمان نے خاندانی عداوت پر والدہ کے گھر سے واپسی پر آتے ہوئے بیوہ عالمہ دین بچوں کی ماں کو راستے میں اسلحہ کی نوک پر زبردستی روک کے گاڑی میںزبردستی بٹھا لیا اور برہنہ کرکے جسم پر تشدد کرکے ویڈیو بھی بناتے رہے،شور شرابے پر ملزمان نے لات مار کر بیوہ کو گاڑی سے نیچے پھینک دیا اور موقع سے فرار ہوئے، پولیس نے متاثرہ بیوہ کی درخواست پر


ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھجوادیا،جب کہ تین ملزمان نے ضمانت قبل از گرفتاری کروالی ہے، مبینہ تفصیلات کے مطابق ایبٹ آباد سے ملحقہ نواحی گاؤں دھیری کی رہائشی 27سالہ بیوہ طاہر خان والدہ کے گھر سے واپس آرہی تھیں کہ راستے میں کیری ڈبہ میں موجود راشد ولد یعقوب،ہمایون ولد یعقوب،انعام اللہ ولد داؤد،آصف ولد منیر،عمران ولد یعقوب احسان اللہ ولد ہمایون خان نے اسلحہ کی نوک پر روک لیا اور زبردستی گاڑی میں بٹھایا،متاثرہ بیوہ عالمہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ ملزمان نے دن دیہاڑے گاڑی میں اسلحہ کی نوک پر برہنہ کرکے تشدد کیا اور ویڈیو بھی بنائی ہے اور شور شرابے پر گاڑی سے لات مار کے پھینک دیا جس پر عینی شاہد ین بلال ولد مرتضی،عمر ولد بن یامین نے گلوخاصی کروائی،متاثرہ بیوہ عالمہ خاتون پر ظلم اور تشدد پر تھانہ سٹی پولیس نے زیر دفعہ 342, 337 A/اور 354A کے تحت مقدمہ درج کیا ہے،جب کہ واقعہ میں ملوث تین ملزمان نے ضمانت قبل از گرفتاری کروالی ہے،جب کہ تین ملزمان جیل میں ہیں،ادھر 28رمضان المبارک کو پیش آنے والے واقعہ پر علاقہ کے عوام میں غم اور غصہ کی لہر پیدا ہوئی ہے انہوں نے بے رحم بااثر ملزمان کو سخت قانونی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

پہلے جنم کے پانچ ساتھی

میں نے چند برس قبل حیات بعد ازمرگ پر کالم لکھا تھا‘ وہ عام سی فضول تحریر تھی‘ لوگوں نے اسے یاوہ گوئی سمجھ کر اگنور کر دیا لیکن وہ پڑھ کر میڈیکل کالج کی ایک سٹوڈنٹ نے مجھ سے رابطہ کیا اور بتایا ’’مجھے بچپن سے خواب آتے ہیں‘ میرا بڑا سا گھر ‘ ایک جوان بیٹا اور بہو ....مزید پڑھئے‎

میں نے چند برس قبل حیات بعد ازمرگ پر کالم لکھا تھا‘ وہ عام سی فضول تحریر تھی‘ لوگوں نے اسے یاوہ گوئی سمجھ کر اگنور کر دیا لیکن وہ پڑھ کر میڈیکل کالج کی ایک سٹوڈنٹ نے مجھ سے رابطہ کیا اور بتایا ’’مجھے بچپن سے خواب آتے ہیں‘ میرا بڑا سا گھر ‘ ایک جوان بیٹا اور بہو ....مزید پڑھئے‎