اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

بھارتی فوج نے پانی میں ڈبو کر کرنٹ لگایا، رسیو ں سے ہاتھ، پاؤں باندھ کر صبح تک مارا پیٹا، کشمیری نوجوان کے انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 18  ستمبر‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی) بھارتی فوج کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والے کشمیری شہری نے کہاہے کہ اسے بھارتی فوج نے پانی میں ڈبو کر کرنٹ لگایا گیا، رسیو ں سے ہاتھ، پاوں باندھ کر صبح تک مارا پیٹا گیا،دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے پردہ اٹھانے والے صحافیوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کردی گئیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی فوج کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والے کشمیری شہری نے ترک میڈیا سے بات کرتے ہوئے بھارتی فوج کے مظالم سے پردہ اْٹھایا دیا۔عابد احمد خان نامی کشمیری نے بتایا کہ اْسے پانی میں ڈبو کر کرنٹ لگایا گیا،

رسیو ں سے ہاتھ، پاوں باندھ کر صبح تک مارا پیٹا گیا۔دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے پردہ اٹھانے والے صحافیوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کردی گئی ہیں۔مقامی صحافیوں کا کہناتھاکہ صحافیوں کے لیے ہر دن مشکل بنادیا گیا ہے، انہیں کام سے روکا جارہا ہے۔ایک کشمیری صحافی شاہد خان نے بتایا کہ سری نگر میں 7 ستمبر کو محرم کے جلوس کے دوران پولیس نے ان سمیت چھ صحافیوں پر تشدد کیا تھا جس سے ان کے سر میں فریکچر ہوگیا۔حالیہ دنوں میں مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کو ہراساں اور تشدد کرنے سے متعلق متعدد کیسز سامنے آئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…