جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

عمران خان کی جان کو خطرہ بڑھ گیا، ہمسایہ ملک سے حملہ کرنے کیلئے آنے والے دہشت گرد بنی گالا سے گرفتار کر لیے گئے، صحافی حامد میر کے سنسنی خیز انکشافات

datetime 20  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم پاکستان عمران خان کی تقریر پر معروف صحافی حامد میر نے کہا عمران خان کی بطور وزیراعظم یہ پہلی تقریر تھی، معروف صحافی نے کہا کہ میرے خیال سے عمران خان اپنے سیاسی مخالفین سے مخاطب نہیں تھے بلکہ وہ پاکستان کے عام آدمی سے مخاطب تھے، عمران خان نے اپنے خطاب میں بچوں اور بیواؤں سے بات کی۔ معروف صحافی حامد میر نے کہا کہ

عمران خان نے صرف دو گاڑیاں رکھنے کا اعلان کیا ہے اور اپنے لیے صرف 2 ملازم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، معروف صحافی نے کہا کہ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بناؤں گا جس پر کچھ لوگ ان کا مذاق اڑا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ وزیراعظم ہاؤس تو ریڈ زون میں ہے تو اس کو کیسے یونیورسٹی بنایا جا سکتا ہے۔ معروف صحافی حامد میر نے کہا کہ یہی تو اصل چیلنجز ہیں، عمران خان کو جان کے خطرے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کی جان کو انتخابی مہم میں بھی خطرہ تھا اور عمران خان سے کہا گیا تھا کہ آپ سوات اور بنوں میں جلسہ نہ کریں اس حوالے سے عمران خان کو بہت ڈرایا گیا، معروف صحافی حامد میر نے کہا کہ پچھلے دو ہفتوں میں بنی گالا کے اندر اور باہر سے کچھ لوگ گرفتار کیے گئے ہیں جو عمران خان پر حملہ کرنے کی نیت سے افغانستان سے آئے تھے۔ معروف صحافی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان بالکل صحیح کہہ رہے ہیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اور

بہت ساری قوتیں عمران خان کی جان کی دشمن بنی ہوئی ہیں۔ عمران خان کی تقریر پر معروف صحافی حامد میر نے کہا عمران خان کی بطور وزیراعظم یہ پہلی تقریر تھی، معروف صحافی نے کہا کہ میرے خیال سے عمران خان اپنے سیاسی مخالفین سے مخاطب نہیں تھے بلکہ وہ پاکستان کے عام آدمی سے مخاطب تھے، عمران خان نے اپنے خطاب میں بچوں اور بیواؤں سے بات کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…