اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

امید ہے عمران خان کی حکومت یہ کام ضرور کرے گی،بھا رتی وزیر اعظم نریندرمودی کی عمران خان کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد،بڑی توقع کا اظہار کردیا

datetime 12  اگست‬‮  2018 |

نئی دہلی (آ ئی این پی)بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے کہا ہے کہ امید ہے کہ عمران خان خطے کو دہشت گردی سے محفوظ بنانے کے لیے کام کریں گے، خطے میں قیام امن اور استحکام کے لیے پڑوسی ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کرنا بی جے پی کی ترجیحی پالیسی ہے جس پر ہم اپنی حکومت کے پہلے روز سے ہی عمل پیرا ہیں،اتوار کو بھارتی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں نریندرا مودی نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے

امید ظاہر کی کہ پاکستان کی نئی حکومت خطے کو دہشت گردی سے پاک، محفوظ، مستحکم اور خوشحال بنانے کے لیے کام کرے گی۔مودی کا کہنا تھا کہ خطے میں قیام امن اور استحکام کے لیے پڑوسی ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کرنا بی جے پی کی ترجیحی پالیسی ہے جس پر ہم اپنی حکومت کے پہلے روز سے ہی عمل پیرا ہیں۔بھارت میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں بے گناہ افراد کی ہلاکتوں پر نریندرا مودی کا کہنا تھا کہ یہ نہایت افسوسناک امر ہے جس کی سخت الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے۔ میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ مشتعل ہجوم کا کسی کو بھی قتل کردینا سنگین جرم ہے، اس کے سدباب کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایت کی روشنی میں قانون سازی کر رہے ہیں۔آسام میں لاکھوں افراد کو شہریت سے محروم کردینے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خالص قانونی معاملے کو اپوزیشن جماعت منفی سیاست کی بھینٹ چڑھا رہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی پر نفرت آمیز اور متعصبانہ پالیسی کا الزام دھرنے والی کانگریس نے ہی 1972 اور 1985 میں غیر ملکی تارکین وطن کے حوالے سے قوانین وضع کیے تھے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت سپریم کورٹ کے حکم پر صرف ملکی قوانین پر عمل درآمد کروا رہی ہے۔ جس کے لیے ہم نے آسام میں موجود تارکین وطن کو اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے مکمل مواقع فراہم کیئے۔ جن تارکین وطن نے اپنی شہریت سے متعلق

مصدقہ دستاویزات جمع کرائیں ان کی تجدید کردی گئی تاہم جن کے پاس شہریت کا کوئی ثبوت نہیں انہیں کیسے شہری تسلیم کیا جا سکتا ہے۔چینی صدر سے ہونے والی ملاقات کے حوالے سے نریندرا مودی نے بتایا کہ اپنے دور حکومت کے دوران اب تک چین کے صدر شی جن پنگ سے کئی بار ملاقات کر چکا ہوں۔ حال ہی میں ووہان میں بے تکلف اور خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی جس میں طے پایا تھا کہ خطے میں امن ، ترقی اور خوشحالی کے لیے باہمی تعلقات کے امکانات کو ڈھونڈا جائے گا۔ دو گنجان آباد اور بڑے ہمسایہ ممالک ایک دوسرے سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…