بدھ‬‮ ، 01 اپریل‬‮ 2026 

دیپیکاپڈوکون ڈپریشن کے مرض سے اب تک باہر نہ نکل سکیں

datetime 9  اکتوبر‬‮  2017 |

ممبئی(این این آئی) بالی ووڈ اداکارہ دپیکا پڈوکون کا کہنا ہے کہ انہیں لگتا ہے وہ آج بھی ڈپریشن کے مرض میں مبتلا ہیں اوراب تک اس بیماری سے پیچھا چھڑانے میں ناکام رہی ہیں۔بہترین اداکاری اورخوبصورتی کے باعث بالی ووڈ کے ساتھ ہالی ووڈ پر بھی اپنا سکہ جمانے والی ناموراداکارہ دپیکا پڈوکون ماضی میں ڈپریشن کے مرض کا شکاررہ چکی ہیں، اس دور کو وہ اپنی

زندگی کا خوفناک ترین دور قراردیتی ہیں، ایک انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ڈپریشن کی وجہ سے وہ اکثر بیٹھے بیٹھے رونے لگتی تھیں اور کام پر بھی توجہ نہیں دے پارہی تھیں لہٰذاجب صورتحال بہت زیادہ خراب ہوگئی تو انہوں نے ڈاکٹر سے مشورہ لینے کا فیصلہ کیااوراپنی بیماری پرقابوپانے کے لیے علاج کرایا۔ تاہم دوسال بعد ایک بار پھر دپیکا نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاج کے باوجود وہ آج تک اپنی دماغی بیماری سے باہرنہیں نکل سکیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق اداکارہ نے اپنی دماغی بیماری کیبارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنی بیماری سے آج تک باہر نہیں نکلی ہیں ، انہیں ہروقت اس بات کا خدشہ رہتا ہے کہ ڈپریشن کی بیماری ایک بار پھر ان پر حاوی ہوجائے گی۔دپیکا کا کہنا تھا کہ فلم انڈسٹری میں ایسے لوگ موجود ہیں جومجھے صرف اس وجہ سے کام کی پیشکش نہیں کرتے کہ میں ڈپریشن کی مریضہ ہوں اور کام نہیں کرسکتی، لیکن میں یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتی، ہوسکتا ہے یہ بات صحیح نہ ہو،تاہم میں پھر بھی بہت خوش ہوں کیونکہ بہت سے لوگوں کی جانب سے کام کی پیشکش نہ ہونے کے باوجود میرے پاس اتنا کام ہے کہ میں اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق کام کا

انتخاب کرتی ہوں۔بالی ووڈ اداکارہ نے کہا کہ بھارتی عوام ذہنی بیماری سے آگہی کے متعلق بہت کم جانتے ہیں اور ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اس بارے میں بات بھی نہیں کرتے ، دپیکا نے کہا کہ بنیادی تعلیمی ادارے یعنی اسکولوں میں ہی طالب علموں کو ذہنی بیماری سے متعلق آگاہ کرنا چاہئے۔اس

کے علاوہ وہ تمام افراد جو کام کے دوران کسی بھی قسم کا ڈپریشن محسوس کرتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ اس بارے میں بغیر کسی ڈر اور خوف کے کھلے عام بات کریں۔ دپیکا نے ایک ادارہ بھی قائم کیا ہے جہاں ڈپریشن میں مبتلا افراد کا علاج کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…