جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

نواز الدین صدیقی کھلونے بنانے والی کمپنی میں بطور سکیورٹی گارڈ کام کرتے رہے، رپورٹ

datetime 20  اگست‬‮  2017 |

ممبئی( آن لائن) بالی ووڈ کے مقبول ترین اداکارنوازالدین صدیقی محنت، کوشش اور کامیابی کی اعلیٰ مثال ہیں لیکن فلموں میں انٹری سے قبل نوازالدین نے نہایت غربت کے دن دیکھے ہیں جبکہ زندگی کی گاڑی کوکھینچنے کیلئے وہ معمولی ملازمت کرنے سے بھی کبھی نہیں گھبرائے۔نوازالدین صدیقی کا شماربالی ووڈکے ان اداکاروں میں ہوتا ہے

جنہوں نے کڑی محنت اورکافی جدوجہد کے بعد بھارت کے مقبول ترین اداکار کا اعزاز حاصل کیا ہے، نوازالدین صدیقی کا تعلق بھارتی ریاست اتر پردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے، بچپن ہی سے ان کی دہلیز پرغربت نے ڈیرے جمائے ہوئے تھے لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور آج ان کا شمار بالی ووڈ کے صف اول کے اداکاروں میں ہوتا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بالی ووڈ میں انٹری سے قبل نواز زندگی کی گاڑی کو رواں رکھنے کیلئے کھلونے بنانے والی ایک کمپنی میں بطورسکیورٹی گارڈ تعینات تھے۔ نواز الدین صدیقی نے گزشتہ روز اپنی نئی فلم ’’بابوماشائی بندوق باز‘‘ کی تشہیرکے سلسلے میں ایک جامعہ میں شرکت کی جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی دنوں کے بارے میں بات کی۔ اداکار نے کہا کہ وہ 1993 میں مظفرنگرسے دہلی اورپھرممبئی آئے، بنا پیسوں کے زندگی گزارنا بہت مشکل ہوتا ہے لہٰذا انہوں نے زندگی کی گاڑی کو رواں رکھنے کیلئے سکیورٹی گارڈ کی معمولی سی

نوکری کی جہاں کئی بار فیکٹری کے مالک نے انہیں گیٹ کے باہر آرام کرتے ہوئے پکڑ لیا بعد ازاں انہوں نے وہ نوکری چھوڑدی۔ ااداکار نے کہا کہ دہلی آکرانہوں نے اداکاری کے اسکول میں داخلہ لیا اس کے بعد انہوں نے ممبئی کا رخ کیا جہاں انہیں متعدد فلمسازوں نے کئی باررد کیا لیکن نوازالدین صدیقی نے ہمت نہیں ہاری اورمسلسل کوششوں میں لگے رہے

اور 2012 میں انہیں فلم ’’گینگز آف واسع پور‘‘ میں پہلی بارمضبوط کردارادا کرنے کا موقع ملا اوریہیں سے ان کے فنی سفر کا آغاز ہوا۔واضح رہے کہ نوازالدین صدیقی کا شماربالی ووڈ کے صف کے اداکاروں میں ہوتا ہے اوراب تک وہ شاہ رخ ، عامر اور سلمان خان سمیت فلم انڈسٹری کے متعدد اداکاروں کے ساتھ اداکاری کے جوہردکھا چکے ہیں۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…