منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

بھارت میں سچ بولنے کی سزاموت ہے، پاکستان کے معروف اداکار نے ایسا کیوں کہا؟ تہلکہ خیز انکشافات

datetime 10  جنوری‬‮  2017 |

لاہور(این این آئی) بالی ووڈ کے ورسٹائل اداکار اوم پوری کی پراسرار موت نے پاکستانی فنکاروں کوبھی ہلا کررکھ دیا ہے۔ کسی نے ان کی موت پاکستان سے محبت اور چاہت کو قراردیا ہے توکسی نے اس حوالے سے تحقیقات بھارتی حکومت آلہ کار پولیس سے نہیں بلکہ کسی بین الاقوامی تحقیقاتی کمپنی سے کروانے کی خواہش ظاہرکردی ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے اداکار نیئراعجاز نے کہا کہ اوم پوری ایک بہترین اداکارتھے۔ ان کی فنی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔
ان کی لازوال اداکاری نے کئی فلموں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یادگاربنا دیا۔ ان کی موت پردنیا بھرمیں ان کے چاہنے والے افسردہ تھے لیکن پوسٹ مارٹم رپورٹ اورملے جلے بیانات نے اس کیس کوایک نئی سمت موڑ دیا ہے۔ اس کی تحقیقات اعلیٰ پیمانے پرہونی چاہیے تاکہ ان کے چاہنے والوں کے سامنے حقائق آسکیں۔اداکارہ ماہ نورنے کہا کہ اوم پوری صرف بھارت ہی نہیں بلکہ دنیا کے بیشترممالک کی فلموں اوردیگرپروجیکٹس میں کام کرنے والے ورسٹائل اداکارتھے۔
ان کواگرسوچی سمجھی سازش کے تحت قتل کیا گیا ہے تواس کے پیچھے کام کرنے والوں کوسامنے لایا جائے۔ ان کا ایک بیان انتہا پسند ہندوؤں کواتنا چبھا کہ ان کو’’ مہان سے شیطان ‘‘ بنادیا گیا۔اس موقع پرہی ان کومارنے کی دھمکیاں ملنے لگی تھیں اوراس حوالے سے بہت سی خبریں سوشل میڈیا پرگردش کررہی تھیں۔ اب تویوں ہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ قدرتی موت نہیں بلکہ پلاننگ سے کی جانے والی کارروائی ہے جس کے حقائق سامنے آنے چاہئیں۔اداکارہ ریجاعلی نے کہا کہ اوم پوری جیسے خوبصورت اداکاراورانسان کواگرواقعی ہی اس قدر بے دردی سے مارا گیا ہے تواس پرجتنا بھی افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔ اس سے بھارت کا اصل اور ’’مہان ‘‘چہرہ سامنے آگیا ہے۔ فلم، ڈراموں اورسیاسی پنڈالوں میں انسانیت، محبت اوربھائی چارے کا بھاشن دینے والوں نے ایک معصوم فنکارکواس قدرستایا کہ وہ ذہنی دباؤ کا شکار رہنے لگے تھے۔ اس سے ایک بات توثابت ہوجاتی ہے کہ بھارت میں سچ بولنے کی سزا موت سے کم نہیں ہے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…