جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

“ قرآن پڑھنے اور سکارف پہننے کی وجہ سے مجھے امریکہ میں ‘ مصلوب ’ کیا گیا ، امریکہ چھوڑ کر لندن آنا میرا اچھا فیصلہ تھا ، ترک صدر لئے جیسے لوگ کھڑے ہوئے وہ قابل ِتحسین ہے ”،ہالی ووڈ اداکارہ لنڈسے لوہان کا انٹرویو

datetime 17  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی فنکارہ لنڈسے ہوہان نے کہاہے کہ مجھے قرآن پاک کامطالعہ کرنے اورسکارف پہننے کی وجہ سے اپنے ہی وطن میں میرے قریبی دوستوں نے مجھے تنقید کانشانہ بنایا۔انہوں نے کہاکہ قرآن پاک کامطالعہ کرنے سے مجھے معلوم ہواکہ اس دنیاکوجس نے بنایاوہ سب سے زیادہ طاقتورہے اورمجھے قرآن کامطالعہ کرنے کے بعد محسوس ہواکہ مجھ میں کوئی تبدیلی ہوئی اوراس کااثرمیری عادات پربھی پڑااورمیں نے سکون محسوس کیا۔ایک ترک ٹی وی کوانٹرویودیتے ہوئے لندسے لوہان نے کہاکہ زندگی تجربات کانام ہے اورلندن منتقل ہونے کافیصلہ بہت پریشان کن فیصلہ ہے لیکن ایسے فیصلے کرناپڑتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ امریکہ میں تما م افراد خطرناک نہیں ہیں لیکن کچھ افراد متعب ہیں جس کی وجہ سے میں نے لندن منتقل ہونے کافیصلہ کیاجوکہ میراایک بہترین فیصلہ تھا۔انہوں نے کہاکہ ترک صدرطیب اردوان جیسے لوگ قابل تحسین ہیں ۔انہوں نے کہاکہ مجھے قرآن پاک کامطالعہ کرنے سے دلی سکون حاصل ہواہے ۔انہوں نے کہاکہ ترکی کے لوگ طیب اردوان کےلئے گھروں سے باہرآئے جوکہ قابل تحسین ہے ۔۔انہوں نے کہا ‘ وہ تو میں بس پکڑ کر چل رہی تھی، ایک پاپ رازی (فوٹوگرافر) پوری گلی میں موجود تھے اور انہوں نے مجھے اس پر امریکا میں سولی پر چڑھا دیا، انہیں مجھے کچھ ایسا بنا دیا جیسے میں شیطان ہوں یا قرآن پکڑنے پر میں بری عورت بن گئی ہوں، میں اس بات پر خوش ہوں کہ اس واقعے کے بعد میں لندن چلی گئی کیونکہ میں خود کو اپنے ملک میں غیرمحفوظ محسوس کرنے لگی تھی، میرا ماننا ہے کہ اگر میں کچھ جاننا چاہتی ہوں تو وہ میری اپنی مرضی ہے، وہ کسی اور کے سامنے اظہار کے لیے نہیں۔لنڈسے لوہان کی ہنگامہ خیز برسوں سے عوام کی نظر میں ہے، وہ بتاتی ہیں کہ لندن اور سعودی عرب میں ان کے قریبی دوستوں نے انہیں قرآن مجید دیا تھا کہ امریکا میں جس مشکل وقت کا وہ سامنا کررہی ہیں، اس کے لیے مدد مل سکے ‘ انہوں نے مجھے قرآن دیا اور میں اسے نیویارک لے آئی کیونکہ میں اس سے سیکھ رہی تھیں اور میرے لیے تجربے اور روحانیت کے دروازے کھل رہے تھے جس سے میں نے دیگر حقیقی معنی جانیں۔مگر ذہنی اذیت کا سامنا کرنے پر انہیں سمجھ میں آیا ‘ جو خواتین حجاب پہنتی ہیں وہ مختلف کیوں نظر آتی ہیں، کیونکہ وہ خود کو اجنبی محسوس کررہی ہوتی ہیںاداکارہ وضاحت کرتی ہیں ‘ جب اس خاتون نے مجھے حجاب پہنایا تو مجھے اعزاز کا احساس ہوا کیونکہ اس خاتون نے مجھے اپنے انداز سے اپنی ثقافت کا حصہ بننے کا موقع دیا، حالانکہ میں اس کے لیے اجنبی تھی۔وہ تسلیم کرتی ہیں کہ حجاب پہننے سے پہلے انہوں نے کئی بار سوچا کہ میڈیا اس کی عکاسی کیسے کرے گا اور انہیں ڈر تھا کہ اس غلط انداز سے پیش کیا جائے گا اور حقیقت چھپ جائے گی ‘ اسے شہ سرخیوں میں آنا ہی تھا کیونکہ ترکی میں یہ کسی خاتون کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ حجاب پہنے یا نہ پہنے، یہاں یہ حیرت انگیز امر ہے کہ آپ کو اپنی پسند کے انتخاب کا موقع ملتا ہے اور اسے قبول بھی کیا جاتا ہے، جبکہ امریکا میں، جب میں نے قرآن مجید کو ہاتھ میں لیا تو شیطان بن گئی۔

Lindsay Lohan on being ‘crucified’ for holding… by pkpoliticstwelve

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…