جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

سائنسدانوں نے کائنات کے ایک حیرت انگیز اسرار کا راز دریافت کرلیا

datetime 13  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ماہرین فلکیات نے کائنات میں ایک ایسے غیر معمولی مظہر کی نشاندہی کی ہے جو بظاہر ایک بڑے ستارے کی طرح دکھائی دیتا ہے،

لیکن اس سے خارج ہونے والی توانائی اور دیگر خصوصیات اسے بلیک ہول سے جوڑتی ہیں۔بین الاقوامی تحقیقی ٹیم نے یہ مشاہدہ ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے حاصل ہونے والی تصاویر کی مدد سے کیا، جن میں ایک انتہائی روشن سرخ نقطہ دکھائی دیا۔ یہ پراسرار جرم برج قیطس میں موجود ہے اور زمین سے اربوں نوری سال کے فاصلے پر واقع بتایا جاتا ہے۔محققین کے اندازے کے مطابق یہ کائناتی مظہر بگ بینگ کے تقریباً 66 کروڑ سال بعد وجود میں آیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا حجم ہمارے نظام شمسی کے قریب ہے، جبکہ اس کی چمک غیر معمولی حد تک زیادہ ہے اور یہ کسی عام ستارے کے مقابلے میں تقریباً 100 ارب گنا زیادہ توانائی خارج کرتا دکھائی دیتا ہے۔تحقیقی ٹیم میں شامل میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدان روہن نائیڈو کے مطابق یہ ایک منفرد کائناتی مظہر ہے، کیونکہ اس میں بلیک ہول سے وابستہ شدید توانائی کے ساتھ ایسی خصوصیات بھی موجود ہیں جو عام طور پر ستاروں میں دیکھی جاتی ہیں۔

ماہرین نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے ابتدائی کائنات میں موجود دور دراز کہکشاؤں اور کائناتی اجسام کا مشاہدہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اسی تحقیق کے دوران ’مام زی 14‘ نامی کہکشاں کی دریافت کے بعد سائنسدانوں کی توجہ اس غیر معمولی سرخ مظہر کی جانب مبذول ہوئی۔جرنل نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق میں اس کائناتی جسم کو مام بی ایچ 1 کا نام دیا گیا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس کی روشنی کا مکمل طور پر سرخ دکھائی دینا اور مخصوص طول موج پر اچانک غائب ہوجانا اسے دیگر معلوم کائناتی اجسام سے منفرد بناتا ہے۔کمپیوٹر ماڈلز اور سمولیشنز کے ذریعے کیے گئے تجزیے سے محققین اس نتیجے تک پہنچے کہ یہ محض ایک انتہائی بڑا ستارہ نہیں بلکہ ایسا بلیک ہول ہوسکتا ہے جو ستارے کی مانند روشن نظر آتا ہے۔اگر مزید تحقیق میں یہ مفروضہ درست ثابت ہوگیا تو ماہرین کے مطابق ابتدائی کائنات میں نظر آنے والے دیگر پراسرار سرخ اجسام بھی ممکنہ طور پر اسی نوعیت کے بلیک ہول اسٹارز ہوسکتے ہیں۔روہن نائیڈو کا کہنا ہے کہ ایسے کائناتی مظاہر ممکنہ طور پر ابتدائی کہکشاؤں کی تشکیل اور ارتقا میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہوں گے، جس سے کائنات کے ابتدائی دور کو سمجھنے میں نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…