منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

اب ہم مرنے کے بعد بھی پوسٹ کر سکیں گے! میٹا نے حیران کن اے آئی پیٹنٹ حاصل کر لیا

datetime 19  فروری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) ٹیکنالوجی کمپنی میٹا پلیٹ فارمز نے ایک ایسے مصنوعی ذہانت کے ماڈل کا پیٹنٹ حاصل کر لیا ہے

جو کسی صارف کے انتقال کے بعد بھی اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو فعال رکھ کر پوسٹس شیئر اور گفتگو جاری رکھ سکتا ہے۔اطلاعات کے مطابق یہ پیٹنٹ گزشتہ سال دسمبر کے آخر میں منظور ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ نظام ایک جدید لارج لینگویج ماڈل پر مبنی ہے جو صارف کے سابقہ ڈیٹا کا تجزیہ کر کے اس کے اندازِ تحریر، ردعمل اور گفتگو کے طریقے کی نقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دستاویزات میں یہ بھی ذکر ہے کہ یہ ٹیکنالوجی صرف تحریری پیغامات ہی نہیں بلکہ آواز اور ویڈیو کی صورت میں بھی صارف جیسا تاثر پیدا کر سکتی ہے۔پیٹنٹ کے مطابق یہ سسٹم صارف کی پسند، عادات اور آن لائن سرگرمیوں کے ریکارڈ کی بنیاد پر تقریباً اسی جیسا انداز اپنائے گا۔ تاہم کمپنی کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ فی الحال اس ٹیکنالوجی کو عملی طور پر متعارف کرانے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ماہرین اس ایجاد کے اخلاقی پہلوؤں پر سوال اٹھا رہے ہیں اور بحث جاری ہے کہ اگر کوئی شخص وفات کے بعد بھی ڈیجیٹل دنیا میں متحرک دکھائی دے تو اس کے معاشرتی اور اخلاقی اثرات کیا ہوں گے۔

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں بعض افراد نے حیرت کا اظہار کیا تو کچھ نے اس خیال کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرنے والوں کو سکون سے رہنے دیا جانا چاہیے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تصور دراصل ’’ڈیجیٹل نقل‘‘ یا سوگ کے لیے بنائے گئے روبوٹ جیسے حساس موضوعات سے جڑا ہوا ہے، جن پر پہلے ہی عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ اگر کوئی اے آئی مرنے کے بعد بھی کسی کے اکاؤنٹ سے بات کرتا رہے تو کیا ٹیکنالوجی کے لیے کوئی حد باقی رہ جاتی ہے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…