جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

چیٹ جی پی ٹی پر روزانہ لوگ کتنے سوالات کرتے ہیں؟ حیران کن اعدادوشمار سامنے آ گئے

datetime 7  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اوپن اے آئی کے تیار کردہ معروف مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کو دنیا بھر میں روزانہ کروڑوں افراد مختلف مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔کمپنی کی جانب سے جاری کی گئی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روزانہ تقریباً چار کروڑ صارفین چیٹ جی پی ٹی سے صحت اور طب سے متعلق سوالات کے جوابات حاصل کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق لوگ اس اے آئی ٹول سے بیماریوں کی علامات، ادویات، علاج کے طریقۂ کار اور دیگر طبی معلومات کے لیے رہنمائی لیتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی سے کیے جانے والے مجموعی سوالات میں سے پانچ فیصد سے زائد کا تعلق صحت کے موضوعات سے ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ پلیٹ فارم کے تقریباً 80 کروڑ صارفین میں سے 20 کروڑ افراد ہر ہفتے کم از کم ایک مرتبہ صحت سے متعلق کوئی نہ کوئی سوال ضرور کرتے ہیں۔

زیادہ تر صارفین یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ سر درد جیسی علامات کس حد تک سنگین ہو سکتی ہیں، کسی طبی تشخیص کی اصطلاح کا مطلب کیا ہے، یا نئی ادویات کے استعمال سے تھکن یا دیگر اثرات کیوں محسوس ہو رہے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق 55 فیصد افراد علامات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی سے رجوع کرتے ہیں، جبکہ 52 فیصد صارفین عمومی صحت سے متعلق سوالات کے جواب چاہتے ہیں۔ اسی طرح 48 فیصد لوگ طبی اصطلاحات اور ہدایات کو سمجھنے کے لیے اس ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہیں، جبکہ 44 فیصد افراد علاج کے مختلف آپشنز کے بارے میں جاننے کے لیے اے آئی سے مدد حاصل کرتے ہیں۔اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ان افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے جنہیں فوری طور پر ڈاکٹر یا طبی ماہر تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…