جمعہ‬‮ ، 23 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان نے 6ہزار فٹ کی بلندی پر اڑنے والا خودکش ڈرون تیار کرلیا

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان نے 6ہزار فٹ کی بلندی پر اڑنے والا خودکش ڈرون تیار کرلیا،ڈرون بیک وقت 60اور81ایم ایم کے بم کے ساتھ دشمن کے ٹینک،ہیلی کاپٹراورتنصیبات سمیت دیگراہداف کوکاری ضرب لگا سکتا ہے۔ ایکسپو سینٹرکراچی میں 4روزہ دفاعی نمائش آئیڈیاز2024ء کے دوران پاکستان آرڈیننس فیکٹری کی جانب سے پہلی مرتبہ خودکش ڈرون متعارف کروایا گیا،سبزرنگ کا بوتل نما بم اپنے چھوٹے سے وجود میں مکمل تباہ کاری کا حامل ہے، 6ہزارفٹ کی بلندی تک اڑان کی صلاحیت کا حامل یہ اڑتا بم 60اور81ایم ایم کے بم اپنے ساتھ لے جاسکتا ہے۔

پی اوایف کے مینیجرویپن ڈیزائن سلمان علی خان کے مطابق پاکستانی ساختہ سرویلنس اورکومبیٹ ڈرون توپہلے سیہی موجود تھے،جن میں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ضرورت کے تحت تیکنیکی بہتری لائی گئی البتہ تھرمل امیجن اورخودکش ڈرون کا اضافہ پہلی مرتبہ کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ضرورت ایجاد کی ماں کے مصداق اس کی ضرورت اس وجہ سے بھی محسوس کی گئی کہ ایک چھوٹے مشن کے ذریعے آپ دشمن کے کسی بھی ٹینک،ہیلی کاپٹریا فوجی تنصیب کو کاری ضرب لگاسکتے ہیں،کیونکہ ایک ٹینک کی مالیت 4 سے5ملین ڈالرزجبکہ ایک ہیلی کاپٹریا جنگی جہاز20ملین ڈالرزکی لاگت کا ہوتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جہازکواڑانے والے انتہائی تربیت یافتہ پائلٹ کی زندگی بھی بہت قیمتی ہوتی ہے،خودکش ڈرون 8کلومیٹرتک ہدف کونشانہ بناسکتا ہے جبکہ 6ہزارفٹ کی بلندی تک اڑان بھرسکتا ہے،اس خودکش ڈرون میں یہ صلاحیت بھی رکھی گئی ہے کہ ضرورت پڑنے پرزمین کے انتہائی قریب سے اڑان بھرتے ہوئے دشمن کوگولہ بارود کے ذریعے نشانہ بناسکتا ہے۔

سلمان علی خان نے بتایا کہ ڈرون زیادہ تربیٹری کی طاقت سے چلائے جاتے تھے، مگراس کی اڑان 30سے40منٹ سے زیادہ نہیں ہوتی تھی،جو ایک فوجی آپریشن کیلئے انتہائی کم وقت ہے،اس سے قبل ڈرون میں نارمل کیمرے استعمال کئے جاتے تھے جودن کے وقت توٹھیک کام کرتے تھے مگررات کے وقت اندھیرے میں ٹارگٹ کی کھوج نہیں لگاسکتے تھے۔ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ ان ڈرونزکوہائی برڈ الیکٹرک پرمنتقل کیا گیاجس کے سبب ڈرون کی فلائٹ اب چارسے پانچ گھنٹے تک بڑھ چکی ہے۔سلمان علی خان نے بتایا کہ ڈرونزکے اندرپہلی مرتبہ تھرمل امیجنگ کیمرہ لگا یا گیا ہے جورات کے وقت دشمن ملک کے افراد اورٹینکوں یا بندوقوں سے نکلنے والی ہیٹ سیان کونشاندہی کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کسی بھی فوجی مشن کیلئے سب سے پہلے سرویلنس ڈرون کو بھیجاجاتا ہے،فضائی نگرانی اورتمام ترمنظرنامے کے بعد اٹیک ڈرون کی اڑان بھری جاتی ہے تاکہ اس ہدف کونشانہ بنایاجاسکے،اس کے علاوہ ایک اورصورت ہوتی ہے کہ اس مقام پرخودکش ڈرون لانچ کیاجائے،کیونکہ اس کی مثال ایک اڑتے بم کی ہوتی ہے،جوکسی بھی فرد،گاڑی یا چیک پوسٹ کو تباہی سے دوچارکرسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…