اتوار‬‮ ، 08 فروری‬‮ 2026 

فیس بک کا ملازمین کو ڈیڑھ لاکھ روپے کورونا بونس دینے کا اعلان‎

datetime 18  مارچ‬‮  2020 |

نیویارک(این این آئی )دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ فیس بک نے اپنے ملازمین کو ایک ہزار امریکی ڈالر یعنی پاکستانی تقریبا ایک لاکھ 60 ہزار روپے کا بونس دینے کا اعلان کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق فیس بک نے مذکورہ اعلان سے قبل ہی کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے ملازمین کو گھروں سے بیٹھ کر کام کرنے کی اجازت دی تھی جب کہ کمپنی نے عالمی وبا کی وجہ سے

چھوٹی سوشل ویب سائٹس اور ٹیکنالوجی فرمز کے لیے بھی مراعات کا اعلان کیا تھا۔فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے کمپنی ملازمین کو خوشخبری سناتے ہوئے تمام مستقل اور کل وقتی ملازمین کے لیے ایک ہزار امریکی ڈالر یعنی پاکستانی تقریبا ایک لاکھ 60 ہزار روپے بونس کا اعلان کیا۔مذکورہ بونس کورونا وائرس کی وجہ سے گھروں میں بیٹھ کر کام کرنے والے ملازمین سمیت دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین کوبھی دیا جائے گا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ فیس بک کے دنیا بھر میں کل وقتی مستقل ملازمین کی تعداد 45 ہزار ہے جب کہ فیس بک کے ساتھ گھنٹوں کے حساب سے بھی ہزاروں ملازمین کام کرتے ہیں۔فیس بک نے ملازمین کو کورونا وائرس بونس دینے کے اعلان سے قبل ہی اعلان کیا تھا کہ ویب سائٹ دنیا بھر کی چھوٹی ٹیکنالوجی کمپنی میں 10 کروڑ امریکی ڈالر کی رقم تقسیم کرے گی۔‎فیس بک نے کورونا وائرس کی وجہ سے کاروبار میں مندی اور مشکلات کی وجہ سے دنیا بھر کی 30 ہزار چھوٹی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سوشل ویب سائٹس میں 10 کروڑ ڈالر کی امدادی رقم تقسیم کا اعلان کیا تھا۔فیس بک کے مطابق مذکورہ رقم دنیا بھر کی ان تمام ویب سائٹس اور ٹیکنالوجی کمپنیز میں تقسیم کی جائے گی جن کا تعلق ان ممالک سے ہوگا جہاں فیس بک کام کرتا ہے۔ملازمین کو کورونا وائرس کا بونس دینے کا اعلان کرنے والی فیس بک اب تک کی پہلی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی ہے، تاہم اب خیال کیا جا رہا ہے کہ ٹوئٹر اور گوگل سمیت دیگر کمپنیاں بھی اپنے ملازمین کو بونس دینے کا اعلان کریں گی۔فیس بک کے علاوہ دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بھی اپنے ملازمین کو کورونا وائرس کی وجہ سے گھروں سے کام کرنے کی اجازت دے رکھی ہے اور گوگل و ٹوئٹر سمیت کئی کمپنیوں کے ہزاروں ملازمین گزشتہ تین ہفتوں سے گھروں سے کام کر رہے ہیں۔ٹیکنالوجیز کمپنیز کے علاوہ موبائل و کمپیوٹر بنانے والی کمپنیوں نے بھی اپنے ملازمین کو گھروں سے بیٹھ کر کام کرنے کی اجازت دے رکھی ہے جب کہ کئی کمپنیوں نے اپنی پیداواری فیکٹریاں بھی عارضی طور پر بند کردی ہیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ دنیا بھر کی ٹیکنالوجی کمپنیز نے کسی بیماری کی وجہ سے نہ صرف اپنی پیداواری فیکٹریاں عارضی طور پر بند کی ہیں جب کہ کئی دفاتر کو بند کرکے ملازمین کو گھروں سے بیٹھ کر کام کرنے کی اجازت بھی دی ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…