جمعہ‬‮ ، 31 جنوری‬‮ 2025 

فیس بک کا ملازمین کو ڈیڑھ لاکھ روپے کورونا بونس دینے کا اعلان‎

datetime 18  مارچ‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نیویارک(این این آئی )دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ فیس بک نے اپنے ملازمین کو ایک ہزار امریکی ڈالر یعنی پاکستانی تقریبا ایک لاکھ 60 ہزار روپے کا بونس دینے کا اعلان کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق فیس بک نے مذکورہ اعلان سے قبل ہی کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے ملازمین کو گھروں سے بیٹھ کر کام کرنے کی اجازت دی تھی جب کہ کمپنی نے عالمی وبا کی وجہ سے

چھوٹی سوشل ویب سائٹس اور ٹیکنالوجی فرمز کے لیے بھی مراعات کا اعلان کیا تھا۔فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے کمپنی ملازمین کو خوشخبری سناتے ہوئے تمام مستقل اور کل وقتی ملازمین کے لیے ایک ہزار امریکی ڈالر یعنی پاکستانی تقریبا ایک لاکھ 60 ہزار روپے بونس کا اعلان کیا۔مذکورہ بونس کورونا وائرس کی وجہ سے گھروں میں بیٹھ کر کام کرنے والے ملازمین سمیت دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین کوبھی دیا جائے گا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ فیس بک کے دنیا بھر میں کل وقتی مستقل ملازمین کی تعداد 45 ہزار ہے جب کہ فیس بک کے ساتھ گھنٹوں کے حساب سے بھی ہزاروں ملازمین کام کرتے ہیں۔فیس بک نے ملازمین کو کورونا وائرس بونس دینے کے اعلان سے قبل ہی اعلان کیا تھا کہ ویب سائٹ دنیا بھر کی چھوٹی ٹیکنالوجی کمپنی میں 10 کروڑ امریکی ڈالر کی رقم تقسیم کرے گی۔‎فیس بک نے کورونا وائرس کی وجہ سے کاروبار میں مندی اور مشکلات کی وجہ سے دنیا بھر کی 30 ہزار چھوٹی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سوشل ویب سائٹس میں 10 کروڑ ڈالر کی امدادی رقم تقسیم کا اعلان کیا تھا۔فیس بک کے مطابق مذکورہ رقم دنیا بھر کی ان تمام ویب سائٹس اور ٹیکنالوجی کمپنیز میں تقسیم کی جائے گی جن کا تعلق ان ممالک سے ہوگا جہاں فیس بک کام کرتا ہے۔ملازمین کو کورونا وائرس کا بونس دینے کا اعلان کرنے والی فیس بک اب تک کی پہلی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی ہے، تاہم اب خیال کیا جا رہا ہے کہ ٹوئٹر اور گوگل سمیت دیگر کمپنیاں بھی اپنے ملازمین کو بونس دینے کا اعلان کریں گی۔فیس بک کے علاوہ دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بھی اپنے ملازمین کو کورونا وائرس کی وجہ سے گھروں سے کام کرنے کی اجازت دے رکھی ہے اور گوگل و ٹوئٹر سمیت کئی کمپنیوں کے ہزاروں ملازمین گزشتہ تین ہفتوں سے گھروں سے کام کر رہے ہیں۔ٹیکنالوجیز کمپنیز کے علاوہ موبائل و کمپیوٹر بنانے والی کمپنیوں نے بھی اپنے ملازمین کو گھروں سے بیٹھ کر کام کرنے کی اجازت دے رکھی ہے جب کہ کئی کمپنیوں نے اپنی پیداواری فیکٹریاں بھی عارضی طور پر بند کردی ہیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ دنیا بھر کی ٹیکنالوجی کمپنیز نے کسی بیماری کی وجہ سے نہ صرف اپنی پیداواری فیکٹریاں عارضی طور پر بند کی ہیں جب کہ کئی دفاتر کو بند کرکے ملازمین کو گھروں سے بیٹھ کر کام کرنے کی اجازت بھی دی ہے۔‎

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دجال آ چکا ہے


نیولی چیمبرلین (Neville Chamberlain) سرونسٹن چرچل سے قبل…

ایک ہی راستہ بچا ہے

جنرل احسان الحق 2003ء میں ڈی جی آئی ایس آئی تھے‘…

دوسرے درویش کا قصہ

دوسرا درویش سیدھا ہوا‘ کمرے میں موجود لوگوں…

اسی طرح

بھارت میں من موہن سنگھ کو حادثاتی وزیراعظم کہا…

ریکوڈک میں ایک دن

بلوچی زبان میں ریک ریتلی مٹی کو کہتے ہیں اور ڈک…

خود کو کبھی سیلف میڈنہ کہیں

’’اس کی وجہ تکبر ہے‘ ہر کام یاب انسان اپنی کام…

20 جنوری کے بعد

کل صاحب کے ساتھ طویل عرصے بعد ملاقات ہوئی‘ صاحب…

افغانستان کے حالات

آپ اگر ہزار سال پیچھے چلے جائیں تو سنٹرل ایشیا…

پہلے درویش کا قصہ

پہلا درویش سیدھا ہوا اور بولا ’’میں دفتر میں…

آپ افغانوں کو خرید نہیں سکتے

پاکستان نے یوسف رضا گیلانی اور جنرل اشفاق پرویز…

صفحہ نمبر 328

باب وڈورڈ دنیا کا مشہور رپورٹر اور مصنف ہے‘ باب…