ناسا کوچاند پر بھارتی خلائی مشن کی باقیات مل گئیں چندریان کی تباہی کے بعد’ ’ناسا‘‘ نے کیا دیکھا؟جانئے

  منگل‬‮ 3 دسمبر‬‮ 2019  |  16:14

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ناسا کوچاند پر بھارتی خلائی مشن چندریان 2کی باقیات مل گئیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ناسا نے چاند کے اس حصے کی تصویر بھی جاری کی ہے جہاں سے وکرم لینڈر کا ملبہ ملا۔امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے مطابق اس کے ایک مصنوعی سیارے کو چاند کی سطح سے انڈیا کے وکرم لینڈر کی باقیات ملی ہیں جو رواں برس ستمبر میں چاند پر گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ناسا نے چاند کے اس حصے کی تصویر بھی جاری کی ہے جہاں وکرم لینڈر گرا تھا۔تصویر میں گرنے کے بعد اس جگہ پر ہونیوالے اثرات دکھانے کی کوشش


کی گئی ہے۔ناسا نے اس دریافت کا سہرا ایک انڈین انجینئر شنموگا سبریامنیم کے سر رکھا۔تکنیکی خرابی کے باعث چاند گاڑی کا گراؤنڈ سٹیشن سے رابطہ منقطع ہوگیا اور اس نے چاند کے جنوبی قطب سے تقریباً 600 کلومیٹر دور، چاند کے ایک نسبتاً قدیم حصے میں ’’ہارڈ لینڈنگ ‘‘کی، یعنی کنٹرول سے باہر ہو کر چاند کی سطح پر جا گرا۔خلائی ایجنسی نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ بہت سارے افراد نے ناسا کی جاری کردہ تصویر ڈاؤن لوڈ کی تھی۔بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ باقیات کے مقام سے متعلق انڈین انجینئرسبریمنیم کی جانب سے بھیجی گئی اطلاع موصول ہونے کے بعد ناسا کی ٹیم نے پہلے اور بعد کی تصاویر کا موازنہ کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ یہ انڈین خلائی مشن کی ہی باقیات ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر وکرم چاند کی سطح پر موجود دو بڑی بڑی کھائیوں کے درمیان مقررہ مقام پر اترتی تو اس پر لادا ہوا روور چاند کی سطح پر خود بخود چاند گاڑی سے الگ ہو جاتا اور پھر وہاں سے تصویریں اور دیگر معلومات یا ڈیٹا بھیجنا شروع کر دیتا۔ اس روور میں توانائی ختم ہونے میں 14 دن لگتے اور اس دوران یہ چاند گاڑی سے 500 میٹر دور تک گھوم کر سائنسدانوں کو ڈیٹا بھیج دیتا۔تاہم مشن چندریان 2آخری لمحات میں ناکام ہوگیا ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بلیک سٹارٹ

آپ بجلی کے تازہ ترین بریک ڈائون کو سمجھنے کے لیے گاڑی کی مثال لیں‘ گاڑی کو انجن چلاتا ہے لیکن ہم انجن کو سٹارٹ کرنے کے لیے اسے بیٹری کے ذریعے کرنٹ دیتے ہیں‘ بیٹری کا کرنٹ انجن کو سٹارٹ کر دیتا ہے اور انجن سٹارٹ ہو کر گاڑی چلا دیتا ہے‘ آپ اب فرض کیجیے انجن راستے میں ....مزید پڑھئے‎

آپ بجلی کے تازہ ترین بریک ڈائون کو سمجھنے کے لیے گاڑی کی مثال لیں‘ گاڑی کو انجن چلاتا ہے لیکن ہم انجن کو سٹارٹ کرنے کے لیے اسے بیٹری کے ذریعے کرنٹ دیتے ہیں‘ بیٹری کا کرنٹ انجن کو سٹارٹ کر دیتا ہے اور انجن سٹارٹ ہو کر گاڑی چلا دیتا ہے‘ آپ اب فرض کیجیے انجن راستے میں ....مزید پڑھئے‎