جمعرات‬‮ ، 16 جولائی‬‮ 2026 

کیا ہر وہ چارجر جو آپ کے اسمارٹ فون میں فٹ آجائے؟ استعمال کرنے سے فون کو نقصان تو نہیں پہنچاتا

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ہر ڈیوائس یعنی اسمارٹ فون، ٹیبلیٹ یا لیپ ٹاپ کے اپنے چارجر ہوتے ہیں تاہم کئی بار ضرورت پڑنے پر لوگ اپنے دوستوں سے چارجر لے کر استعمال کرتے ہیں۔ مگر کیا ہر وہ چارجر جو آپ کی ڈیوائس میں فٹ آجائے، استعمال کرنا نقصان تو نہیں پہنچاتا۔

مثال کے طور پر مائیکرو یو ایس بی چارجر جو کہ برسوں سے اسمارٹ فونز اور ٹیبلیٹس میں استعمال ہورہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لگ بھگ ہر اینڈرائیڈ فون کی کیبل دوسرے میں کام کرنے لگتی ہے۔ کیا آپ اسمارٹ فون کو ٹھیک چارج کررہے ہیں؟ تاہم اگر آپ ہر طرح کے چارجر سے اپنے فون کو چارج کرنا عادت بنالیں تو یہ طویل المعیاد بنیادوں پر نقصان دہ اور خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر کمپنی کے فون کے اندر ایک خصوصی چپ ہوتی ہے جو کہ متعدد افعال کے لیے ضروری ہوتی ہے اور اسے کسی غلط کیبل سے نقصان پہنچ سکتا ہے جس کے نتیجے میں فون کے چند فنکشن متاثر ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ ایک پرانا 5 واٹ کا چارجر نئے اسمارٹ فون کے لیے استعمال کریں تو نتیجہ کچھ زیادہ متاثرکن نہیں ہوگا کیونکہ ڈیوائس بہت سست روی سے چارج ہوگی جس کی وجہ یہ ہے کہ آج کل کے بیشتر فونز فاسٹ چارجر کو قبول کرنے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ اپنے اسمارٹ فون کو کیسے جلد چارج کریں؟ اگر آپ کو علم نہ ہو تو جان لیں کہ دیکھنے میں مائیکرو یو ایس بی کا ڈیزائن تو یکساں ہوتا ہے مگر ان کے اندر کا سرکٹ یکساں نہیں ہوتا۔ آسان الفاظ میں چارجر کے کنکٹر ایک سائز کے ہوسکتے ہیں مگر وہ اندر سے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ تو اس یو ایس بی کیبل اور چارجر کو ہی استعمال کریں جو فون کے ساتھ ہو اگر خراب ہوجائیں تو اسی کمپنی کے خریدنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ کے پاس چارجر نہ ہو تو کسی دوست کا استعمال کرنے سے پہلے اپنے فون کے لیے ضروری بجلی یا پاور میچ کا اخیال رکھیں۔ سستے چارجر اور کیبل خریدنا فون کی بیٹری لائف کو متاثر کرسکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کمپنی کے اپنے چارجر مہنگے ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…