جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

فیس بک نے قحط کا شکار یمنی بچوں کی تصاویری پوسٹیں ہٹادیں

datetime 29  اکتوبر‬‮  2018 |

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) سماجی رابطوں کی سب سے مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک نے ایک مرتبہ پھر کمیونٹی بنیاد کو جواز بناتے ہوئے یمن کے قحط سے متعلق لاغر بچی کی شیئر کی گئی تصاویر والی پوسٹیں عارضی طور پر ہٹا دیں۔ برطانوی ویب سائٹس دی انڈپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق فیس بک نے ایسے صارفین کی پوسٹس کو عارضی طور پر ہٹا دیا جنہوں نے یمن میں جاری

تنازع اور قحط سے متعلق نیویارک ٹائمز کے آرٹیکل کو شیئر کرنے کی کوشش کی، اس آرٹیکل میں قحط کے شکار لاغر بچوں کی تصاویر بھی موجود تھیں۔ تقریباً 10 ہزار صارفین کی جانب سے فیس بک پر اس آرٹیکل کو شیئر کیا گیا لیکن کچھ صارفین کو یہ پیغام موصول ہوا کہ یہ پوسٹ فیس بک کے کمیونٹی معیار کے مطابق نہیں ہے۔ اس حوالے سے ترجمان فیس بک نے اپنے بیان میں کہا کہ’ جیسا کہ ہمارے کمیونٹی معیار واضح ہیں کہ ہم بچوں کی عریاں تصاویر کی فیس بک پر اجازت نہیں دے سکتے لیکن ہم جانتے ہیں یہ تصویر عالمی اہمیت کی حامل ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہم اس بنیاد پر ہٹائی گئی پوسٹس کو بحال کر رہے ہیں‘۔ اس آرٹیکل میں یمن میں حوثی باغیوں کی سعودی اتحادیوں کے خلاف جاری جنگ میں یمنی شہریوں کو پیش آنے والے مسائل اور یمن میں جاری قحط کی طرف روشنی ڈالی گئی ہیں۔ اگر یمن تنازع کی بات کی جائے تو عرب دنیا کے اس غریب ترین ملک میں 2014 میں اس وقت تنازع شروع ہوا جب حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا کا کنٹرول سنبھالا اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم کردہ حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس کے بعد 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب ممالک کے اتحاد نے حوثیوں کے خلاف لڑائی کا آغاز کیا۔ ان تصاویر کے حوالے سے نیویارک ٹائمز کے ایڈیٹرز نے ایک اور آرٹیکل شائع کیا اور وضاحت کی کہ انہوں نے بھوک و افلاس کا شکار ان بچوں کی تصاویر کیوں شائع کیں۔

اس حوالے سے واشنگٹن کے ایک طالبعلم جریجیح فینگ کا کہنا تھا کہ انہوں نے یمن سے متعلق اس مضمون کو دیکھا اور انہوں نے ان تصاویر کو حیران کن پایا۔ انہوں نے کہا کہ ان تصاویر کو دیکھنے کے بعد میں نے انہیں شیئر کرنا فائدے مند سمجھا تاکہ لوگوں کی توجہ اس طرف جاسکے کہ یمن میں کیا ہورہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس مضمون کا لنک اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کیا اور چند گھنٹوں بعد انہیں نوٹیفکیشن

موصول ہوا، جس میں فیس بک کا پیغام تھا کہ ان کی پوسٹ کو ہٹا دیا گیا۔ اس پیغام میں کہا گیا ’ ہم فیس بک پر جنسی خدمات کی پیش کش، جنسی مواد کا فروغ، دھمکیوں یا جنسی تشدد کی تصاویر، عریاں تصاویر یا ایسا جنسی مواد جس میں نابالغ شامل ہوں، کی اجازت نہیں دے سکتے‘۔ فیس بک کی جانب سے یہ پیغام صرف طالب علم کو موصول نہیں ہوا بلکہ درجنوں افراد نے اسی طرح کی شکایت سوشل میڈیا پر شیئر کی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…