بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

ہوا سے پانی بنانے والے جوڑے نے 15کروڑ کا انعام جیت لیا

datetime 26  اکتوبر‬‮  2018 |

کیلیفورنیا(مانیٹرنگ ڈیسک) انسان اگر چاہے تو بلند حوصلے اور عزم و ہمت کی بدولت کچھ بھی کر سکتا ہے اور اس کی سب سے بڑی مثال امریکی جوڑا ہے جس نے ہوا کے ذریعے پانی بنانے کا طریقہ ایجاد کر کے 15کروڑ روپے سے زائد کا انعام جیت لیا۔ ڈیوڈ ہرٹز کو جب یہ خیال سوجھا تو انہوں نے تجرباتی بنیادوں پر اپنے دفتر کی چھت پر خود سے تیار کردہ آلہ نصب کیا اور ان کا تجربہ کامیاب ثابت ہوا۔

جب انہیں اس کی بدولت تازہ پانی ملنا شروع ہو گیا۔ جلد ہی انہوں نے بیوی لورا ڈوس کے ساتھ مل کر کچھ بڑا کرنے کی ٹھانی اور اس حد تک کامیابی حاصل کی کہ انہیں رواں ہفتے پانی بڑی مقدار میں پیدا کرنے پر 15کروڑ روپے سے زائد کا انعام دیا گیا۔ انہوں نے بحری جہازوں کے کنٹینر، لکڑی کے تختوں اور کچرے کے ڈبے کی نذر چند ناکارہ چیزوں کی مدد سے ایک دن میں 2ہزار لیٹر پانی کی پیداوار کی جو انہیں دو روپے فی لیٹر کا پڑا۔ ایکس پرائز نامی مقابلے کا انعقاد چند تجارتی و صنعتی ماہرین کرتے ہیں جس کے تحت دنیا کو محفوظ اور بہتر بنانے کے لیے کام کرنے والوں کو اب تک 140ملین ڈالر کی انعامی رقم دی جا چکی ہے۔ اس سلسلے میں 10ملین ڈالر کا پہلا ایوارڈ 2004 میں مائیکرو سافٹ کے شریک بانی پال ایلن کو دیا گیا تھا۔ ہرٹز کو چند سال قبل پتہ چلا کہ جو کوئی بھی سستا پانی بنانے کا جدید طریقہ ایجاد کرے گا، اسے یہ انعام دیا جائے گا اور اسی کے بعد سے انہوں نے اس تجربے پر کام کرنا شروع کر دیا اور کامیابی نے ان کے قدم چومے۔ ہرٹز کی تیار کردہ مشین(اسکائی واٹر300) اس وقت روزانہ کی بنیاد پر ساڑھے 500لیٹر سے زائد پانی پیدا کرتی ہے جسے وہ علاقے میں موجود بے گھر لوگوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ کیلیفورنیا سے تعقل رکھنے والے اس جوڑے نے ایک سسٹم تیار کیا جس کے تحت لکڑی کے تختوں کو گرمی دے کر حرارت اور نمی پیدا کی جاتی ہے اور ان سے پیدا ہونے والا پانی شپنگ کنٹینرز میں جمع کیا جاتا ہے۔

یونیورسٹی آف کنیٹی کٹ کے پروفیسر اور پانی کے نظام پر ماہر میتھیو اسٹبر نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی نصب کرنا بہت آسان ہے۔ انعام دینے والے پینل میں بحیثیت جج موجود پروفیسر نے کہا کہ پانی بنانے کی یہ مشین پیچیدہ نظام کے بجائے سادہ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے جس کا استعمال کرتے ہوئے اسے آفت زدہ علاقوں کو پانی پہنچانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس مقابلے کا حصہ بننے کے لیے ہرٹز اور ان کی بیوی کو

شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بڑے پیمانے پر فنڈنگ کے حامل امیدواروں کے مقابلے کے لیے اپنا مکان گروی رکھنا پڑا تاکہ وہ اس منصوبے کو عملی جامع پہنا سکیں۔ مقابلے میں 27ملکوں کی 98ٹیموں نے شرکت کی اور ابتدائی طور پر انہیں بتایا گیا کہ آپ کو فائنل پانچ ٹیموں میں شامل نہیں کیا گیا تاہم ایک ٹیم کی جانب سے مقابلے سے دستبرداری کے بعد یہ فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے اور مقابلہ جیت لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…