بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

فیس بک بانی کا اپنا اکاؤنٹ ہیکرز سے بچ نہیں سکا

datetime 1  اکتوبر‬‮  2018 |

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) جمعے کو فیس بک کی جانب سے اعتراف کیا گیا تھا کہ اس سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے 5 کروڑ صارفین اکاﺅنٹ ہیک ہوئے جبکہ مزید 4 کروڑ افراد کے بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔ تاہم اب فیس بک کے لیے زیادہ شرمندگی کی بات یہ بنی ہے کہ اس کے بانی مارک زکربرگ سمیت کمپنی کے 2 اعلیٰ ترین عہدیداران بھی ان متاثرہ افراد میں شامل ہیں۔

جن کے اکاﺅنٹ ہیک ہوئے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ہیکرز کو فیس بک کے بانی مارک زکربرگ،سی او او شیرل سینڈبرگ اور یورپ کے لیے نائب صدر نکولا مینڈیلسن کے اکاﺅنٹس تک بھی رسائی حاصل ہوگئی تھی۔ ابھی تک یہی واضح نہیں کہ یہ سائبر حملہ کس حد تک سنگین تھا، یعنی صارفین کے ذاتی ڈیٹا پر ہیکرز کو کس حد تک رسائی حاصل ہوگئی تاہم فیس بک کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ہی سیکیورٹی خامی پر قابو پالیا گیا تھا۔ جمعے کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کو صارفین کے نجی پیغامات یا کسی اکاﺅنٹ سے پوسٹ کرنے کی طاقت مل گئی تھی، مگر ایسی علامات نہیں ملیں جس سے عندیہ ملے کہ انہوں نے ایسا کیا۔ مارک زکربرگ کا کہنا تھا ‘ ہم اب تک نہیں جانتے کہ متاثرہ اکاﺅنٹس میں سے کسی کا غلط استعمال ہوا یا نہیں’۔ اس ہیکنگ حملے پر پرائیویسی تحفظات تو صارفین کی جانب سے سامنے آئے مگر فیس بک کے اعلیٰ عہدیداران کو ہدف بنانا اس کمپنی کے لیے مشکلات مزید بڑھانے کا باعث بنا۔ اگر ہیکرز کو فیس بک یا اس کے عہدیداران کی حساس معلومات تک رسائی مل گئی تو یہ کمپنی کے کافی تباہ کن ثابت ہوگا۔ فیس بک کے مطابق اس سائبر حملے میں اس کا اندرونی نطام متاثر نہیں ہوا مگر یہ واضح نہیں کیا کہ مارک زکربرگ یا سینڈبرگ کے اکاﺅنٹس سے کس قسم کی معلومات لیک ہوسکتی ہیں یا کونسی سروسز ان سے کنکٹ ہیں۔ دوسری جانب فیس بک صارفین کے اکاﺅنٹس ہیکنگ کے حوالے سے فیس بک کے خلاف مقدمہ بھی دائر کردیا گیا ہے۔ کیلیفورنیا اور ورجینیا سے تعلق رکھنے والے صارفین نے فیس بک کے خلاف مقدمات دائر کیے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…