بدھ‬‮ ، 15 جولائی‬‮ 2026 

جعلی خبروں کے خلاف فیس بک کی جنگ

datetime 19  ستمبر‬‮  2018 |

امریکا(مانیٹرنگ ڈیسک)  ایسا لگتا ہے کہ فیس بک کی جعلی خبروں کو پھیلنے سے روکنے کی کوششیں رنگ لانا شروع ہوگئی ہیں۔ امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور نیویارک یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 2016 کے امریکی انتخابات اور جولائی 2018 کے درمیان فیس بک انگیج منٹ یعنی صارفین کی جانب سے اس پلیٹ فارمز پر پوسٹ کیے جانے والے مضامین کو

شیئر، لائیک اور کمنٹس کرنے کی شرح میں 50 فیصد کی ڈرامائی کمی آئی ہے۔ محققین نے اس مقصد کے لیے 570 ویب سائٹس کا ڈیٹا استعمال کیا جن کے مواد کو مختلف ذرائع جیسے فیکٹ چیک اور بزفیڈ وغیرہ نے جعلی قرار دیا تھا۔ اسی طرح صارفین کی فیس بک انگیج منٹ کا ڈیٹا جمع کرنے والی کمپنی بز سومو کے ڈیٹا کو بھی دیکھا گیا اور معلوم ہوا کہ فیس بک صارفین کی انگیج منٹ رواں سال جولائی مجموعی طور پر 7 کروڑ تھی جبکہ 2016 میں ماہانہ انگیج منٹ 20 کروڑ سے زائد تھی۔ محققین نے دریافت کیا کہ فیس بک اپنے الگورتھم کو ہر وقت بدلتی رہتی ہے تاکہ جعلی خبروں کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔ تحقیق کے دوران مستند نیوز، بزنس اور کلچرل ویب سائٹس کا جائزہ بھی لیا گیا اور محققین کا کہنا تھا کہ ان ویب سائٹس پر صارفین کی انگیج منٹ کے حوالے سے فیس بک کی تبدیلیوں سے کچھ زیادہ اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ تاہم فیس بک کے مقابلے میں ٹوئٹر جعلی خبروں کی روک تھام میں زیادہ کامیاب نظر نہیں آتی۔ اسی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جعلی خبروں پر انگیج منٹ اگر 2016 میں 40 لاکھ تھی تو وہ 2018 میں 60 لاکھ تک پہنچ گئی۔ مگر محققین کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ مارک زکربرگ اور ان کی کمپنی جعلی خبروں کے خلاف جدوجہد پر درست سمت میں ہو مگر انگیج منٹ کے نمبر دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اسے مکمل کامیابی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یقیناً جعلی خبروں والی پوسٹس پر انگیج منٹ گزشتہ 2 سال میں کم ہوئی ہے مگر اب بھی فیس بک کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے مقابلے میں جعلی کبریں پھیلانے میں سب سے آگے ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…