منگل‬‮ ، 07 اپریل‬‮ 2026 

فیس بک اور ٹوئٹر کو نئے قوانین کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، امریکی سینیٹ

datetime 6  ستمبر‬‮  2018 |

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک اور ٹوئٹر نے امریکی جمہوریت کے وسیع تر مفاد میں اپنے پلیٹ فارمز کو بہتر طریقے سے محفوظ بنانے اور غیرملکی مداخلت سے پاک کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ امریکی سینیٹ نے انٹرنیٹ کے بڑے پلیٹ فارمز گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر کو پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا تاکہ وہ اس بات کی وضاحت کر سکیں کہ انہوں نے اپنے پلیٹ فارمز

کو خصوصاً اگلے الیکشن کے لیے محفوظ تر بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔ منگل کو امریکی سینیٹ میں فیس بک اور ٹوئٹر کے اعلیٰ سطح کے نمائندے تو شرک ہوئے لیکن گوگل نے اپنے نمائندے کو بھیجنے سے انکار کردیا جس پر ان کے خلاف کارروائی کا امکان ہے۔  فیس بک پر دہشت گردی کی تشریح ریاستوں کو خاموش رہنے پر مجبور کرتی ہے،اقوام متحدہ فیس بک کی جانب سے ان کی دوسری اعلیٰ ترین ایگزیکٹو شیرل سینڈبرگ اور ٹوئٹر کی جانب سے ان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیک ڈورسی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ واضح رہے کہ چند ماہ قبل فیس بک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ بھی اسی سلسلے میں سینیٹ میں پیش ہوئے تھے اور ان کی طرح شیرل سینڈبرگ نے بھی تسلیم کیا کہ 2016 کے امریکی انتخابات اور اس کے بعد فیس بک روس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو امریکی مفادات کے منافی استعمال کیے جانے سے نہیں روک سکا۔ سینڈبرگ نے نئی ٹیکنالوجیز اور افرادی قوت کے حوالے سے درپیش مسائل اور فیس بک کی جانب سے ان مسائل کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی تفصیل پیش کی۔ ٹوئٹر کے نمائندہ ڈورسی نے بھی اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہاکہ جس طرح خیالات کے آزادانہ تبادلے کو غلط طریقے استعمال کرتے ہوئے ہمارے قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی ہمیں اس پر ہرگز خوشی نہیں ہے۔

ٹوئٹر میں فیس بک جیسے فیچرز کی آزمائش انہوں نے تسلیم کیا کہ 2016 کے انتخابات کے وقت ہم تیار نہیں تھے اور نہ ہی مسائل کے حل کے لیے ہمارے پاس درکار وسائل موجود تھے۔ ڈیمو کریٹک سینیٹر مارک وارنر نے گوگل کی جانب سے سینیٹ میں نمائندہ نہ بھیجنے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیس بک اور ٹوئٹر نے سنگین غلطیاں کیں اور ان پلیٹ فارمز کو خبردار کیا۔

انہیں نئے قوانین اور ضوابط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ شمالی کیرولینا سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر رچرڈ بر نے کہا کہ ہم جعل سازی کے خلاف متحرک ان دونوں پلیٹ فارمز کی کوششوں کو سراہتے ہیں لیکن ابھی بھی اس سلسلے میں بہت کچھ نہیں کیا گیا۔ اس کے جواب میں ڈورسی نے کہا کہ ہم روس کی مبینہ مداخلت سے منسلک تمام تر تر اکاؤنٹس کو تلاش کر رہے ہیں۔

اور اب تک اس سلسلے میں 3ہزار 843اکاؤنٹس کو منقطع کر چکے ہیں۔ اسی طرح فیس بک نے بھی ایسے کئی پیجز کو بند کیا ہے جن کا مبینہ طور پر تعلق امریکی انتخابات پر اثرانداز ہونے والی روسی ایجنسی سے ہے۔ امریکی ماہرین کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ روس نے ناصرف 2016 کے الیکشن کے دوران ہیکنگ کی جس کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ برسر اقتدار آئے۔

اور ملک کے نئے صدر بنے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی امریکا کے مفادات کے خلاف استعمال کیا۔ ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر الزام ہے کہ روس نے ان پلیٹ فارمز کا امریکی مفاد کے خلاف استعمال کیا اور ان سوشل میڈیا ویب سائٹس نے روس کی اس مذموم سازش کو ناکام بنانے کے لیے کوئی لائحہ عمل یا احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی تھیں۔امریکا کے اسپیشل کونسل روبرٹ مولر نے 13روسی شہریوں پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے امریکی انتخابات پر اثرانداز

ہونے کی فردجرم عائد کی تھی۔ فیس اور ٹوئٹر اپنے پلیٹ فارمز کو غلط استعمال سے روکنے کے لیے بہترین ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہیں لیکن مختلف پلیٹ فارم ہونے کی وجہ سے دونوں کی سوچ اور کام کا طریقہ کار بھی الگ ہے البتہ اس سلسلے میں فیس بک کے مقابلے میں ٹوئٹر بہت پیچھے ہے۔ فیس بک جعلی یا غیرتصدیق شدہ اکاؤنٹس کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لاتا ہے جبکہ ٹوئٹر کسی اکاؤنٹ کو جعلی یا غلط تصور کرنے کے لیے اس کی ٹوئٹس کے طریقہ کار اور مواد پر انحصار کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…