بدھ‬‮ ، 15 جولائی‬‮ 2026 

روسی سیٹلائٹ نے امریکہ میں خطرے کی گھنٹی بجا دی

datetime 16  اگست‬‮  2018 |

ماسکو /واشنگٹن(این این آئی)امریکی محکمہ خارجہ کی ایک اہلکار نے کہا ہے کہ ایک روسی مصنوعی سیارے نے انتہائی عجیب و غریب طرزِ عمل کا مظاہرہ کر کے امریکہ میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ۔نائب سیکریٹری یلیم پوبلیٹی نے سوئٹززلینڈ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ کیا چیز تھی اور اس کی تصدیق کا کوئی طریقہ نہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ یہ کہنا ناممکن ہے کہ یہ چیز کوئی ہتھیار رہی ہو گی۔روس نے اس بیان کوبے بنیاد، گمراہ کن اور شک پر مبنی الزام قرار دیا ہے۔یہ مصنوعی سیارہ گذشتہ برس اکتوبر میں لانچ کیا گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ مصنوعی سیارے کے مدار میں طرزِ عمل اس سے قبل کسی بھی چیز سے بالکل مختلف تھا۔پوبلیٹی نے سوئٹزرلینڈ میں اسلحے میں تخفیف کے بارے میں ایک کانفرنس کے دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں روسی عزائم غیر واضح ہیں، اور ظاہر ہے کہ یہ بہت پریشان کن قدم ہے۔انھوں نے روسی خلائی فوج کے کمانڈر کے حالیہ بیان کا حوالہ دیا جنھوں نے کہا تھا کہ ان کی فوج کا مقصد نئی اقسام کے ہتھیار تیار کرنا ہے۔پوبلیٹی نے کہا کہ امریکہ کوسخت تشویش ہے کہ روس سیٹلائٹ شکن ہتھیار تیار کر رہا ہے۔اس کے جواب میں ایک اعلیٰ روسی سفارت کار الیکساندر دینکو نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ یہ بیان شک اور مفروضات پر مبنی ہے۔انھوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ روس اور چین کے درمیان ہونے والے معاہدے میں شرکت کرے جس کا مقصد خلا میں اسلحے کی دوڑ پر پابندی لگانا ہے۔رائل یونائٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کی ایک محقق الیگزینڈرا سٹکنگز نے بتایا کہ خلا سے کام کرنے والے ہتھیار روایتی ہتھیاروں سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہ خلا میں بہت سا ملبہ چھوڑ سکتے ہیں۔ایسے ہتھیاروں میں لیزر اور مائیکرو ویو ہتھیار شامل ہو سکتے ہیں جو کسی مصنوعی سیارے کو عارضی یا مستقل طور پر ناکارہ بنا سکتے ہیں۔تاہم انھوں نے کہا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا یہ ٹیکنالوجی موجود ہے یا نہیں کیوں کہ خلائی ٹیکنالوجی عام طور پر خفیہ رکھی جاتی ہے۔سٹکنگز کے مطابق خلا میں ہونے والے کسی وقوعے کے بارے میں یہ ثابت کرنا بہت مشکل ہو گا کہ آیا وہ محض حادثہ تھا یا پھر کسی ملک کی جانب سے کیا گیا دانستہ حملہ۔یاد رہے کہ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کا چھٹا شعبہ یعنی خلائی فوج لانچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…