ناسا نے نظام شمسی سے مشابہ ایک اور نظام شمسی دریافت کرلیا

  جمعہ‬‮ 15 دسمبر‬‮ 2017  |  13:26

میامی(سی پی پی )خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا نے مصنوعی ذہانت اور خلائی دوربین کیپلر کی مدد سے ہمارے نظام شمسی سے مشابہ ایک اور نظام شمسی دریافت کیا ہے جس میں سورج کے گرد گردش کرنے والے سیاروں کی تعداد بھی ہمارے نظام شمسی کے برابر یعنی 8 ہے۔ ناسا کی طرف سے جاری بیان کے مطابق یہ نظام شمسی ہمارے نظام شمسی سے 2545 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔اس کے سورج کو سائنسدانوں نے کیپلر کا نام دیا ہے جس کے گرد گردش کرنے والے سیاروں میں سے چھوٹے حجم کے سیارے اس کے قریب


اور بڑے حجم کے سیارے اس سے دور گردش کرتے ہیں تاہم ان میں سے کسی پر بھی ایسے حالات موجود نہیں جہاں زندگی ممکن ہو۔ امریکا کی یونیورسٹی آف ٹیکساس کے سائنسدان اینڈریو وانڈن برگ کے مطابق یہ نظام شمسی ہمارے نظام شمسی کا منی ورژن ہے۔اس کا زمین سے مشابہ سیارہ کیپلر 90 آئیکی سطح چٹانی ہے لیکن یہ صرف 14.4دن میں اپنے سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرلیتا ہے جس کا مطلب ہے کہ اس کا ایک سال ہمارے دو ہفتے کے برابر ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس سیارے کا درجہ حرارت ہمارے سیارے عطارد جیسا یعنی قریبا 800 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ کیپلر خلائی دوربین کی مدد سے نئے ستاروں کے گرد سیاروں کی تلاش کیلئے کمپیوٹرز کو امریکی سرچ انجن گوگل کی مدد سے خصوصی تربیت دی گئی ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بلیک سٹارٹ

آپ بجلی کے تازہ ترین بریک ڈائون کو سمجھنے کے لیے گاڑی کی مثال لیں‘ گاڑی کو انجن چلاتا ہے لیکن ہم انجن کو سٹارٹ کرنے کے لیے اسے بیٹری کے ذریعے کرنٹ دیتے ہیں‘ بیٹری کا کرنٹ انجن کو سٹارٹ کر دیتا ہے اور انجن سٹارٹ ہو کر گاڑی چلا دیتا ہے‘ آپ اب فرض کیجیے انجن راستے میں ....مزید پڑھئے‎

آپ بجلی کے تازہ ترین بریک ڈائون کو سمجھنے کے لیے گاڑی کی مثال لیں‘ گاڑی کو انجن چلاتا ہے لیکن ہم انجن کو سٹارٹ کرنے کے لیے اسے بیٹری کے ذریعے کرنٹ دیتے ہیں‘ بیٹری کا کرنٹ انجن کو سٹارٹ کر دیتا ہے اور انجن سٹارٹ ہو کر گاڑی چلا دیتا ہے‘ آپ اب فرض کیجیے انجن راستے میں ....مزید پڑھئے‎