واشنگٹن(نیوزڈیسک) وائی فائی سروسز فراہم کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ وائی فائی کا استعمال انسان کے لیے جان لیوا بھی ہوسکتا ہےغےر ملکی مےڈےا کے مطابق حفظان صحت کے شعبے میں کام کرنے والے ماہرین نے ایک تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ وائی فائی کی شعاعیں انسانی اور نباتاتی نشو نما پر اثرانداز ہونے کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی انسان کے لیے جان لیوا بھی ہوسکتی ہیں، وائرلیس انٹرنیٹ سے براہ راست اٹھنے وال لہریں انسانی دماغ پر اثر انداز ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں انسانی دماغ عدم توجہی کا شکار ہونے ساتھ سر میں درد اور کانوں میں بھی تکلیف کا موجب ہوسکتا ہے۔ماہرین نے تجویز دی ہے کہ وائی فائی استعمال کرنے والے صارفین اپنے گھروں میں وائرلیس انٹرنیٹ کے استعمال کا پلان ترتیب دیتے وقت اپنی صحت پر مرتب ہونے والے اس کے منفی اثرات کو ذہن میں رکھیں کہیں ایسا نہ ہو کہ وائی فائی آپ یا آپ کے گھر میں موجود افراد کی زندگی کے لیے خطرہ ثابت ہو۔کیمبرج یونیورسٹی کی ایک دوسری تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وائرلیس انٹرنیٹ حاملہ خواتین کے لیے بھی نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین حاملہ خواتین کو وائر لیس انٹرنیٹ کے استعمال سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ وائرلیس انٹرنیٹ کی مضر صحت شعاعیں استقاط حمل کا موجب بن سکتی ہیں۔
خبردار وائی فائی آپ کی جان بھی لے سکتا ہے ۔۔۔۔!
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)
-
کن ممالک میں عید الفطر کا اعلان ہو گیا؟
-
اسٹیٹ بینک کا بینکوں کی تعطیل کا اعلان
-
اسٹیٹ بینک نے ملک بھر میں نئے کرنسی نوٹوں کی تقسیم کا عمل شروع کر دیا
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کیلئے اردو میں ہنگامی الرٹ ہدایات جاری
-
علی لاریجانی کی شہادت کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان بھی آ گیا
-
پنجاب میں عید کی چھٹیوں کا اعلان ہوگیا
-
ایمان فاطمہ نے شوہر رجب بٹ سے صلح کی کوششوں پر خاموشی توڑ دی
-
دی ہنڈرڈ لیگ میں ابرار احمد کے معاہدے پر بھارتی اداکارہ کا شدید ردعمل
-
ایم ڈی ایم اے کا ملک بھر میں بارش اور برفباری کا الرٹ جاری
-
ایران نے جنگ کا نیا مرحلہ شروع کردیا
-
پنجاب حکومت کا سی سی ڈی کو نئی ذمہ داری دینے کا فیصلہ
-
عید الفطر کے بعد دفاتر کے نئے اوقاتِ کار جاری
-
امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی تھریٹ رپورٹ میں پاکستان، بھارت اور افغانستان کا خصوصی ذکر



















































