سان فرانسسکو(نیوز ڈیسک) انٹرنیٹ پر موجود بہت ساری سہولیات میں سے ایک سرفنگ کے ذریعے رقم کمانا بھی شامل ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ فیس بک کے ایک مجوزہ فیچر کے ذریعے بہت جلد عام صارفین بھی کچھ رقم کما سکیں گے۔اکثر لوگ فیس بک پر بڑی عرق ریزی سے تحریریں لکھتے ہیں۔ بظاہر اْن کی تحریروں کو ملنے والے لائیکس ہی ان کی محنت کا معاوضہ ہوتے ہیں لیکن اب فیس بک کرنے جا رہا ہے کچھ نیا۔جی ہاں ! فیس بک اب ٹپ جار کا ایک نیا فیچر متعارف کرارہا ہے جس میں لوگ کچھ رقم بطور ٹپ شامل کرسکیں گے۔ اس فیچر سے نہ صرف لوگ اپنی محنت کے عوض کچھ رقم کما سکیں گے بلکہ کسی نیک مقصد کے لیے چندہ بھی جمع ہو سکے گا۔ یعنی اب کسی پوسٹس پر آپ بہت سارے لائیکس اور شیئر کے علاوہ پیسے بھی حاصل کر سکیں گے۔فیس بک نے حال میں ایک سروے کا انعقاد کیا تھا، جس میں لوگوں سے پوچھا گیا تھا کہ وہ فیس بک میں کون سے نئے فیچرز دیکھنا چاہتے ہیں تو اکثریت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ فیس بک کے ذریعے لوگوں کو رقم حاصل کرنے کی سہولت ملنی چاہیے۔ صارفین کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے فیس بک نے ’’ٹپ جار‘‘ فیچر شامل کرنے پر کام شروع کر دیا ہے اور امید ہے اسے جلد فیس بک میں شامل کر دیا جائے گا۔فیس بک پہلی ویب سائٹ نہیں جو یہ سہولت دے رہی ہے یوٹیوب پر اس طرح کا فیچر کئی سالوں سے موجود ہے جس میں لوگ مختلف چینلز بنا کر اس سے وابستہ اشتہارات کے ذریعے اچھی رقم کمارہے ہیں۔
فیس بک شائقین کیلئے بڑی خوشخبری، جتنی محنت اتنا معاوضہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)
-
کن ممالک میں عید الفطر کا اعلان ہو گیا؟
-
اسٹیٹ بینک کا بینکوں کی تعطیل کا اعلان
-
اسٹیٹ بینک نے ملک بھر میں نئے کرنسی نوٹوں کی تقسیم کا عمل شروع کر دیا
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کیلئے اردو میں ہنگامی الرٹ ہدایات جاری
-
علی لاریجانی کی شہادت کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان بھی آ گیا
-
پنجاب میں عید کی چھٹیوں کا اعلان ہوگیا
-
ایمان فاطمہ نے شوہر رجب بٹ سے صلح کی کوششوں پر خاموشی توڑ دی
-
دی ہنڈرڈ لیگ میں ابرار احمد کے معاہدے پر بھارتی اداکارہ کا شدید ردعمل
-
ایم ڈی ایم اے کا ملک بھر میں بارش اور برفباری کا الرٹ جاری
-
ایران نے جنگ کا نیا مرحلہ شروع کردیا
-
پنجاب حکومت کا سی سی ڈی کو نئی ذمہ داری دینے کا فیصلہ
-
عید الفطر کے بعد دفاتر کے نئے اوقاتِ کار جاری
-
امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی تھریٹ رپورٹ میں پاکستان، بھارت اور افغانستان کا خصوصی ذکر



















































