ہفتہ‬‮ ، 20 جون‬‮ 2026 

137 سال سے جاری طویل ترین سائنسی تجربہ 2100 میں ختم ہوگا

datetime 10  فروری‬‮  2016 |

مشی گن(نیوز ڈیسک) گزشتہ 137 سال سے جاری نباتیات کا تجربہ 2100 میں ختم ہوگا جسے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سائنسی تجربہ قرار دیا جارہا ہے۔یہ تجربہ مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی میں کیا گیا تھا جس میں دیکھنا تھا کہ آیا صرف ایک بیج سے پودے نشوونما پاسکتے ہیں جسے اب 137 سال گزرچکے ہیں اور ماہرین کی نسل در نسل نے اس تجربے کا خیال رکھا ہے جو 2100 میں اختتام پذیر ہوگا۔1879 میں اسے پودوں کے ایک ماہر ڈاکٹر ولیم جیمز بیل نے شروع کیا تھا جو سیکڑوں سال سے کسانوں کی جانب سے پوچھے جانے والے ایک سوال کےجواب میں شروع کیا گیا تھا کہ پودے کی اطراف اگنے والی گھاس پھوس کو کتنی مرتبہ اکھاڑا جائے کہ یہاں تک اس کی افزائش بالکل رک جائے۔ بیل نے خود عملی طور پر اس کا جواب پانے کے لیے یہ تجربہ کیا جس کے لیے دیکھنا تھا کہ بیج مٹی میں کتنے عرصے تک سرگرم رہتے ہیں۔اس کیلئے 23 اقسام کی گھاس پھوس یا فصل کے لیے مضر جڑی بوٹیوں کو لے کر ہر ایک کے 50 بیج 20 ایسی بوتلوں میں رکھے guy جن کی گردن تنگ تھی اور اس میں نمی سے بھرپور مٹی ڈال کر رکھ دیا گیا، ہر بوتل کا ڈھکنا کھلا ہوا رکھا گیا جن میں بعض بوتلوں کو منہ کے بل الٹا رکھا گیا اور کچھ بوتلوں کو مٹی کے اندر دبا دیا گیا جب کہ ہر 5 سال کے بعد اس بوتل کا جائزہ بھی لیا گیا۔بیل نے یہ تجربہ اپنے نوجوان ساتھی ہنری ڈارلنگٹن کو دیا جس کے بعد وہ مزید دو سائنسدانوں رابرٹ بنڈورسکی اور جین زیوارٹ کو ملا اور اب فرینک ٹیلوسکی کے پاس ہے جو یونیورسٹی کے نباتاتی باغ کے کیوریٹر بھی ہیں۔ اس ضمن میں ا?خری بوتل 2000 میں کھولی گئی تھی لیکن اس عمل کو خفیہ رکھا گیا تھا۔ اب تک نکالی جانی والی بوتلوں میں سے 23 پودوں میں سے صرف 2 پودوں بیج ہی پھوٹ پڑے اور ان میں نشوونما دیکھی گئی۔ان میں سے ایک موتھ بوٹی ہے جس کے 50 میں سے 23 پودے اگنے لگے جب کہ ایک اور قسم کی جڑی بوٹی کا صرف ایک بیج ہی پھوٹا۔ اس تجربے کی ا?خری بوتل 2100 میں کھولی جائے گی جب کہ اس تجربے کا مقصد یہ ہے کہ بیجوں کو طویل عرصے تک رکھ کر نوٹ کیا جائے کہ ان میں افزائش کی صلاحیت ہے یا نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محمد بوٹا انجم


محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…