جمعرات‬‮ ، 19 مارچ‬‮ 2026 

نظام شمسی میں نواں سیارہ دریافت

datetime 22  جنوری‬‮  2016 |

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)امریکی ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ ہمارے نظام شمسی میں نواں سیارہ موجود ہے جو پلوٹو سے بھی دور مدار میں گردش کر رہا ہے۔کیلی فورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی ٹیم کے پاس تاہم اس وقت اس حوالے سے براہ راست آبزرویشن نہیں ہے۔اگر یہ بات درست نکلتی ہے تو یہ نیا سیارہ زمین کے حجم سے دس گنا ہو گا۔امریکی ٹیم کو غیر واضح طور پر اس نئے سیارے کی پوزیشن کا معلوم ہے لیکن اس دعوے کے بعد اس نئے سیارے کی تلاش کی دوڑ شروع ہو جائے گی۔ڈاکٹر مائیک براﺅن کا کہنا ہے زمین پر موجود بہت سی خلائی دوربینیں اس قابل ہیں کہ وہ اتنے دور دراز سیارے کو تلاش کر سکیں اور میں امید کرتا ہوں کہ جب اس کی تلاش کی آغاز کا اعلان ہو گا تو بہت سے لوگ اس نویں سیارے کی تلاش میں حصہ لیں گے۔کیلی فورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی ٹیم کے مطابق سورج سے آٹھواں سیارہ نیپچون 4.5 ارب کلومیٹر کے فاصلے پر گردش کر رہا ہے جبکہ نیا سیارہ اس سے بھی 20 گنا زیادہ فاصلے پر گردش کر رہاہے۔ٹیم کا کہنا ہے کہ دیگر سیارے کے مقابلے میں اس سیارے کی گردش گولائی میں نہیں ہے اور یہ سورج کے گرد چکر 10سے 20 ہزار سالوں میں مکمل کرتا ہے۔امریکی ٹیم نے کوئپر بیلٹ میں سیارچوں کا تجزیہ کیا ہے اور اسی بیلٹ میں پلوٹو پایا جاتا ہے۔ٹیم نے اس بیلٹ میں موجود سیارچوں کی صف بندی کا تجزیہ کیا ہے اور خاص طور پر سیڈنا اور 2012 وی پی 113 کا۔ ٹیم کے بقول صف بندی اس طرف اسارہ کرتی ہے کہ اس بیلٹ میں ایک بڑا سیارہ موجود ہے۔یاد رہے کہ نظام شمسی سورج اور ان تمام اجرام فلکی کے مجموعے کو کہتے ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر سورج کی ثقلی گرفت میں ہیں۔ اس میں 8 سیارے، ان کے 162 معلوم چاند، 3 شناخت شدہ بونے سیارے(بشمول پلوٹو)، ان کے 4 معلوم چاند اور کروڑوں دوسرے چھوٹے اجرام فلکی شامل ہیں۔ اس آخری زمرے میں سیارچے، کوئپر پٹی کے اجسام، دم دار سیارے، شہاب ثاقب اور بین السیاروی گرد شامل ہیں۔سورج سے فاصلے کے اعتبار سے سیاروں کی ترتیب یہ ہے: عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون۔ ان میں سے چھ سیاروں کے گرد ان کے اپنے چھوٹے سیارے گردش کرتے ہیں جنہیں زمین کے چاند کی مناسبت سے چاند ہی کہا جاتا ہے۔ چار بیرونی سیاروں کے گرد چھوٹے چٹانی اجسام، ذرات اور گردوغبار حلقوں کی شکل میں گردش کرتے ہیں۔ تین بونے سیاروں میں پلوٹو، کوئپر پٹی کا سب سے بڑا معلوم جسم؛ سیرس، سیارچوں کے پٹی کا سب سے بڑا جسم؛ اور ارس، جو کہ کوئپر پٹی سے پرے واقع ہے؛ شامل ہیں۔نظام شمسی کے سیارے اور بونے سیارے؛ اجسام کا حجم ان کے اصل حجم کے متناسب دکھایا گیا ہے لیکن ان کا باہمی فاصلہ اصل فاصلے کے متناسب نہیں ہے۔سورج کے گرد چکر لگانے والے اجسام کو تین گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: سیارے، بونے سیارے (Dwarf planets) اور چھوٹے شمسی اجسام (Small Solar System bodies)۔تسلیم شدہ آٹھ سیارے یہ ہیں: عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، مشتری، زحل، یورینس، نیپچون24 اگست 2006 کو بین الاقوامی فلکیاتی اتحاد (International Astronomical Union) نے پہلی بار سیارے کی تعریف کی اور پلوٹو کو سیاروں کی فہرست سے خارج کر دیا۔ پلوٹو کو اب ارس اور سرس کے ساتھ بونے سیاروں کے زمرے میں رکھا گیا ہے



کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…