جمعرات‬‮ ، 19 مارچ‬‮ 2026 

نئی دنیاﺅں کی تلاش میں مدد کا ذریعہ

datetime 3  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)ماہرینِ فلکیات نے کہا ہے کہ زمین سے دور واقع کسی ستارے کی کششِ ثقل کی اب زیادہ درست پیمائش کی جا سکتی ہے جس سے دوسری دنیاو¿ں پر روشنی پڑے گی۔نئے طریقے سے دور دراز واقع ستارے کا بھی مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ایک بڑے سیارچے کا زمین کے قریب سے سفرزمین سے مماثلت رکھنے والا سیارہ کینیڈا کی یونیورسٹی برٹش کولمبیا میں پرفیسر جیمی میتھیوز کے بقول ’ہماری تکنیک بتا سکتی ہے کہ دور واقع ستارہ کتنا روشن اور بڑا ہے اور کیا اس کے اردگرد واقع سیارے کا سائز اور درجہ حرارت صحیح ہے کہ اس پر پانی کے سمندر ہوں یا شاید زندگی ہو؟‘۔’نئی تحقیق ’سائنس ایڈوانسس‘ نامی رسالے میں شائع ہوئی ہیں۔ کسی ستارے کی سطح پر موجود کششِ ثقل، قوت کی اس شدت کو ظاہر کرتی ہے جو ستارے یا جرمِ فلکی کی سطح پر ہر ایک شے کو مرکز کی طرف کھینچتی ہے۔ اس کی پیمائش عام طور پر ستارے کی روشنی یا چکمدار ہونے سے کی جاتی ہے لیکن یہ طریقہ صرف ان ستاروں کے لیے درست ثابت ہوتا ہے جو بہت روشن یا قریب واقع ہوں۔تھامس کیلنگر کا تعلق جامع ویانا سے ہے اور انھوں نے ایک ٹیم کی قیادت کی جس نے کیپلر نامی خلائی دوربین سے ڈیٹا استعمال کیا۔ یہ دوربین زمین جیسی دیگر دنیاو¿ں کو تلاش کر رہی ہے۔ڈیٹا سے پتہ چلا کہ دور واقع ستاروں کی چمک میں فرق سے ان کی سطح پر واقع کششِ ثقل کی بہتر پیمائش ہو سکتی ہے۔محققین کے مطابق کسی ستارے کی سطح پر ناہمواری اور ارتعاش کا دورانیہ جس کی بنیاد ستارے کی چمک میں ادل بدل پر ہوتی ہے، یہ بتاتا ہے کہ اس کی سطح پر کتنی کششِ ثقل ہے۔ مزید خلائی مشن دور دراز واقع ستاروں کے اردگرد گھومنے والے سیاروں کی تلاش کریں گے جن پر پانی یا شاید زندگی ہو سکتی ہے۔ڈاکٹر کیلنگر کا کہنا ہے کہ نئے طریقہ کار کو ان تحقیقات سے حاصل شدہ ڈیٹا پر لاگو کیا جا سکتا ہے تاکہ یہ ہمیں ہمارے سورج جیسے دیگر ستاروں کے بارے میں سمجھنے میں مدد دے اور زمین جیسے دیگر سیاروں کی تلاش میں بھی مدد کرے۔ چونکہ سطح پر واقع کششِ ثقل کا انحصار اس کی کمیت اور قطر پر ہوتا ہے، یہ طریقہ ماہرینِ فلکیات کے لیے دور دراز ستاروں اور ان کے گرد گھومنے والے سیاروں کی کمیت اور سائز جاننے میں بھی مدد گار ہو سکتا ہے۔کینیڈا میں برٹش کولمبیا یونیورسٹی کے پرفیسر میتھوز جو اس تحقیق میں شریک ہیں کہتے ہیں ’اگر آپ ستارے سے واقف نہیں تو آپ سیارے کو بھی نہیں جانتے۔ باہر کے سیارے کا سائز اس ستارے کے سائز کی نسبت سے ہوتا ہے جس کے گرد یہ سیارہ گھومتا ہے۔ اگر آپ کو ستارے کے گرد سیارہ گھومتا ملے جو آپ کو سورج جیسا دکھائی دے لیکن سورج سے بہت بڑا ہو تو سمجھ لیجیے کہ غلطی سے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ آپ کو زمین جیسی رہنے والی ایک دنیا مل گئی ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…