بدھ‬‮ ، 06 مئی‬‮‬‮ 2026 

داد وتحسین کے مستحق نوجوان، جن کی ایجادات سے زندگی بنی آسان

datetime 19  اکتوبر‬‮  2015 |

لاہور: (نیوز ڈیسک) نوجوانی عمر کا وہ حصہ ہے جس میں سیکھنے کی صلاحیت اور تجسس اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ اگر اسی تجسس کو درست سمت مل جائے تو جینئس پیدا ہوتے ہیں۔ آئیے ہم آپ کو ایسے نوجوانوں اور ان کی ایجادات کے بارے میں بتاتے ہیں جو واقعی داد وتحسین کے مستحق ہیں۔صحت مند انسان تو زندگی کی ہر نعمت سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں لیکن معذوری انسان کو محتاجی پر مجبور کر دیتی ہے۔ نابینا افراد کا شمار بھی ان انسانوں میں ہوتا ہے جنھیں دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہونے کے باعث بہت مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ اپنی اس معذوری کے باعث ان کی زندگی دوسروں کے مرہون منت ہوتی ہے۔ لیکن ان ہی میں ایک نام لوئس بریل کا ہے جو پیدائشی طور پر اندھے تھے۔ اپنی اس معذوری کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انھیں بے پناہ ذہانت عطا کی تھی۔ لوئس بریل نے نابیناﺅں کیلئے ابھرے ہوئے حروف کو پڑھنے کا ایک طریقہ ایجاد کیا۔ یہ حروف چ±ھو کر پڑھے جاتے ہیں۔ دراصل یہ حروف نہیں ہوتے بلکہ چھ لفظوں کی مدد سے حروف کی اور ہندوسوں کی علامتیں بنائی جاتی ہیں۔ حرف شناسی کا یہ طریقہ ایجاد کرنے والے لوئس بریل 1809ءمیں فرانس میں پیدا ہوئے تھے۔ جب انہوں نے یہ حیرت انگیز ایجاد کی تو ان کی عمر صرف 16 سال تھی۔کینتھ شینوزوکا کی عمر ابھی 15 سال تھی کہ ایک واقعے نے انھیں دہلا کر رکھ دیا تھا۔ ہوا یوں کہ ایک دن ان کے دادا جو ذہنی بیماری الزائمر کے مریض تھے اچانک لاپتا ہو گئے۔ پولیس نے بڑی تگ ودو کے بعد انھیں تلاش کرکے انھیں گھر پہنچایا۔ اس ایک واقعے نے کینتھ شینوزوکا نے ان کے ذہن پر بہت اثر چھوڑا۔ اس نے اپنے من میں ٹھانی کے وہ ایک ایسی ڈیوائس تیار کرے گا جس سے الزائمر کے مریضوں کو فائدہ پہنچ سکے۔ کینتھ شینوزوکا نے اس کے بعد ایک ایسی سینسر ڈیوائس تیار کی جو الزائمر کے مریضوں کی دیکھ بھال پر مامور افراد کو موبائل ایپ کے ذریعے ا?گاہ کر دیتی ہے۔ کینتھ شینوزوکاکی اس ایجاد سے الزائمر کے مریضوں کی زندگی بہت حد تک سہل ہو چکی ہے۔ امریکا سے تعلق رکھنے والی اس لڑکی نے صرف 18 سال کی عمر میں اپنی ایجاد سے دنیا کو حیران کر دیا تھا۔ ایشا کھرے نے ایک ایسی ڈیوائس تیار کی جس کی مدد سے موبائل فون کی بیٹری صرف 20 سیکنڈز میں چارج ہو جاتی ہے۔ اپنی اس حیرت انگیز ایجاد کی وجہ سے 2013ء میں ایشا کھرے کو ینگ سائنٹسٹ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔
2011ئ میں جب کائیل سائمنڈز صرف 8 سال کی تھیں تو انھیں جان لیوا بیماری کینسر سے آگھیرا۔ چھوٹی سی عمر میں کیمو تھراہی کا کورس کائیل سائمنڈز کیلئے شدید آزمائش کا باعث تھا۔ یہی وہ موقع تھا جب اس نے سوچا کہ جب اسے اتنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو دیگر بچوں کا کیا حال ہوتا ہوگا؟۔ کائیل سائمنڈز نے کینسر میں مبتلا بچوں کیلئے ایک ایسا بیگ تیار کیا جس میں کیمو تھراپی کے آلات کو رکھا جا سکتا تھا۔ کائیل سائمنڈز کی اس ایجاد سے کینسر میں مبتلا بچوں کی زندگی بہت ا?سان ہو چکی ہے کیونکہ وہ اس بیگ کے ساتھ روزمرہ کے دیگر کام بھی کر سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)


ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…