جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

سعودی سپر کمپیوٹر دنیا میں ساتویں نمبر پر

datetime 14  جولائی  2015 |

ریاض (نیوزڈیسک )تاریخ میں پہلی بار مشرق ِوسطی میں بننے والا ایک سپر کمپیوٹر دنیا کے دس طاقتور ترین کمپیوٹروں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔شاہین ٹو نامی یہ کمپیوٹر کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں موجود ہے۔ اس کمپیوٹر میں کرے XC40 نامی پروسیسر نصب ہے اور یہ دنیا کا ساتواں طاقتور ترین کمپیوٹر ہے۔اس بات کی تصدیق ٹاپ فائیو ہنڈرڈ نامی ادارے نے کی جو دنیا بھر میں سپر کمپیوٹروں کی کارکردگی کا جائزہ لیتا ہے۔چین کے تائن ہے2 نامی سپر کمپیوٹر نے پہلی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔شاہین ٹو کے اعزاز کا اعلان ٹاپ فائیو ہنڈرڈ نے اپنی درجہ بندی میں کیا جو سال میں دو بار شائع ہوتی ہے۔شاہین ٹو کی رفتار 5.536 پیٹا فلاپ ہے۔کنگ عبداللہ یونیورسٹی نے اس سسٹم کی خریداری، تنصیب اور چلانے پر آٹھ کروڑ ڈالر کی رقم خرچ کی ہے۔ اس سے پہلے اس کی جگہ استعمال ہونے والا کمپیوٹر اس سے 25 گنا کم طاقت ور تھا۔کنگ عبداللہ یونیورسٹی نے اس سسٹم کی خریداری،اس کے نصب کرنے اور اس کے چلانے پر اسی ملین ڈالر کی رقم خرچ کی ہے یہ سپر کمپیوٹر دو لاکھ پروسیسرز کا استعمال کرتا ہے، جو چھ ہزار سے زائد نوڈز کے ذریعے آپس میں منسلک ہیں۔ اس میں 17.6 پیٹا بائٹ سٹوریج کی گنجائش ہے اور اس کی مرکزی میموری 790 ٹیرا بائٹ پر مشتمل ہے۔اس کے مقابلے میں اول نمبر پر آنے والے چینی کمپیوٹر میں 16 ہزار نوڈز ہیں اور اس کی پیٹا فلاپ کی صلاحیت 33.86 ہے۔ایک پیٹا فلاپ کی رفتار تقریبا چار کھرب کیلکیولیشنز فی سیکنڈ ہے، جبکہ یہی کام اگر ایک انسان کرے تو اسے 32 ہزار سال کا عرصہ لگے گا۔اس مشین کو سعودی عرب میں کر ہوائی کی حرکیات، ہوائی جہازوں کے انجنوں کی پیدا کردہ ٹربیولنس اور قابلِ تجدید توانائی پر تحقیق کے لیے استعمال کیا جائے گا۔کنگ عبداللہ یونیورسٹی کے صنعتی شراکت دار اس مشین کو معدنیات کی کھوج، معدنی ایندھن اور خام مال کی پراسیسنگ میں مدد کے لیے بھی استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ٹاپ فائیو ہنڈرڈ نے ایک بلاگ میں کہا کہ دنیا بھر میں کمپیوٹروں کی طاقت میں حالیہ عرصے میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اس کی وجہ سے گذشتہ کچھ عرصے میں نئے سپر کمپیوٹر کم ہی دیکھنے کو ملے ہیں۔ دس بہترین کمپیوٹروں کی فہرست میں زیادہ تر کا شمار ان کمپیوٹروں میں ہوتا ہے جو 2011 یا 2012 میں بنے تھے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…