اسلام آباد (نیوزڈیسک ) فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جاری ائر شو کے موقع پر ائر پورٹس کے لیے ایسی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی ہے، جس کی مدد سے امیگریشن آفیسرز کی جگہ روبوٹس لے لیں گے جبکہ بائیو میٹرک ڈیٹا جرائم پشیہ افراد کی شناخت مزید آسان اور تیز تر بنا دے گا۔ پیرس ائر شو کے دوران فرانسیسی الیکٹرک سسٹم کمپنی تھالیز (THALES) نے ایک ایسا نیا نظام متعارف کرایا ہے، جس کے باعث ائر پورٹس پر مسافروں کی نقل و حرکت تیز اور آسان ہو جائے گی۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے مسافر تیزی کے ساتھ چیک ان اور چیک آو¿ٹ کر سکیں گے۔ تھالیز کے مطابق اس نئے الیکٹرک نظام کی بدولت مستقبل میں کسی مسافر کو چیک ان ڈیسکوں پر انتظار کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے، جو متعدد ہوائی اڈوں پر کامیابی کے ساتھ استعمال کی جا رہی ہے۔ اسی ٹیکنالوجی کو مزید بہتر اور مو¿ثر بناتے ہوئے اب تھالیز نے ایک ایسی مشین تیار کی ہے، جو نہ صرف پاسپورٹ اسکین کرنے اور بورڈنگ پاس جاری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ مسافروں کے چہروں اور آنکھوں کی پتلیوں کی تصاویر بھی لیتی ہے۔ یہ معلومات پھر بہت تیزی کے ساتھ ائر پورٹ پر نصب مختلف کمپیوٹرز پر خود کار طریقے سے شیئر ہو جاتی ہیں۔ اس ابتدائی جانچ پڑتال کے بعد جب مسافر امیگریشن ڈیسک پر پہنچتا ہے تو کمپیوٹر میں پہلے سے ہی جمع شدہ معلومات کو پرکھتے ہوئے ایک لمبا اور سفید رنگ کا روبوٹ کسی انسانی مدد کے بغیر ہی آٹو میٹک طریقے سے مسافر کی شناخت کرلیتا ہے۔ پیرس ائر شو کے دوران اس ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے والے تھالیز کے ایک اہلکار پاسکل زینونی نے اے ایف پی کو بتایا، ”ایسے پانچ یا چھ روبوٹس کو صرف ایک ایجنٹ ہی کنٹرول کر سکتا ہے۔ یوں ائر پورٹ پر موجود عملے میں کمی واقع ہو گی اور سکیورٹی اہلکاروں کو زیادہ جگہ مل سکے گی۔“ اس نظام کی تحت مسافر کی تصویر بورڈنگ پاس پر بھی منتقل ہو جائے گی اور گیٹ پر موجود سٹاف اسے سکین کر کے حتمی شناخت کا عمل مکمل کر لے گا۔ تھالیز کو امید ہے کہ وہ اپنی مہارتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بائیو میٹرک پاسپورٹ اور شناختی عمل کا اپنا ایک نظام بنا لے گی۔ ابتدائی طور پر فرانس سمیت پچیس ممالک کے لیے یہ ٹیکنالوجی تیار کی جائے گی۔ دریں اثنائ پیرس ائر شو کے دوران ایک اور سٹال پر ایک اور کمپنی سافران نے مسافروں کے ڈیٹا کو محفوظ اور بہتر انداز میں آپریٹ کرنے کے ایک نئے نظام کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔ الیکٹرک سکیورٹی کے لیے کام کرنے والی فرانس کی ملٹی نیشنل کمپنی سافران کا ذیلی ادارہ مارفو ستمبر سے فرانس میں اس نظام کو آزمائشی بنیادوں پر شروع کر دے گا۔ اس نئے تجزیاتی نظام کے تحت روزانہ کی بنیادوں پر ڈھائی سو ائر لائنز پر سفر کرنے والے ایک سو ملین مسافروں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا۔ اس نظام کا مقصد دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کی شناخت ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ مارفو نامی کمپنی اپنے بائیو میٹرک نظام کے تحت عالمی سطح پر جرائم پیشہ افراد کی شناخت کے حوالے سے ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ یہ کمپنی امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے علاوہ دیگر سکیورٹی کمپنیوں کو بھی معلومات فراہم کرتی ہے۔ پیرس ائر شو ایرو سپیس انڈسٹری کا سب سے بڑا ایونٹ تصور کیا جاتا ہے، جہاں اس سال پندرہ تا اٹھارہ جون دو ہزار سے زیادہ نمائش کنندگان نے اپنے اسٹال لگائے۔ اس شو کے منتظمین کے اندازوں کے مطابق تین لاکھ افراد اس نمائش کو دیکھنے کے لیے پیرس پہنچے، جن میں بین الاقوامی کمپنیوں، حکومتی اہلکاروں اور سکیورٹی ماہرین کے علاوہ عام شہری بھی شامل تھے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
عید الفطر کیلیے گیس کی فراہمی کا شیڈول جاری
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کی بڑی مشکل آسان ہوگئی
-
خلیجی ممالک پر حملے، شہزادہ فیصل نے بڑا اعلان کر دیا
-
حکومت نے بجلی کے بلوں میں اضافی فکسڈ چارجز شامل کر دیئے
-
امریکی ڈائریکٹر قومی انٹیلی جنس کا پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق بیان مسترد
-
راولپنڈی،شادی شدہ خاتون سے زیادتی کرنے والے 4 افراد گرفتار
-
گیس تنصیبات پر حملہ، قطر کا بڑا سفارتی فیصلہ
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم رکھیں گے تو لوگ اپنا لائف اسٹائل تبدیل نہیں کریں گے، وزیر پیٹرولیم
-
پاکستان ایئرٹریفک کنٹرول نے 30مسافر طیاروں کو وار زون میں داخل ہونے سے بچا لیا
-
ملک میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا، عید الفطر 21 مارچ کو ہوگی: مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اعلان
-
این ڈی ایم اے نے ملک کے مختلف علاقوں میں بارش، شمالی علاقہ جات میں برفباری کا الرٹ جاری کر دیا
-
امریکا کی اپنے شہریوں کو فوری سعودی عرب چھوڑے کی ہدایت
-
ملائیشیا اور بنگلادیش میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا، عید 21 مارچ ہفتےکو ہوگی
-
زرمبادلہ کے ذخائر میں 1 کروڑ 26 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ



















































