مظفرآباد(نیوزڈیسک) آزادکشمیرسے تعلق رکھنے والے ارشد راشد کا خیال ہے کہ وہ پاکستان میں توانائی کے بحران کو ختم کر سکتے ہیں۔ ارشد راشد اس سلسلے میں پن چکیوں کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔آزاد کشمیر میں پن چکیوں کے نظام کو ’جندر‘ کہا جاتا ہے۔ مظفر آباد سے پچاس کلومیٹر دور واقع گاوں ’کتاہی‘ کہ باسی اسی نظام یعنی پن چکیوں کے ذریعے ہی گندم اور مکئی پیستے ہیں۔ اس علاقے کے رہائشی ارشد راشد کہتے ہیں کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جندر صدیوں سے زیر استعمال ہے اور اس میں پتھروں اور مٹی کو کاٹتے ہوئے پانی کا راستہ بنایا جاتا ہے۔ ارشد راشد کہتے ہیں کہ جندر کے ذریعے شفاف طریقےسے مفت بجلی بھی بنائی جاسکتی ہے۔ 38سالہ راشد کہتے ہیں کہ اگر ہر ایک پن چکی کو ایک چھوٹے سے ٹربائن کے ساتھ منسلک کر دیا جائے تو بجلی کی پیداوار شروع ہو جائے گی اور اس طرح لوڈشیڈنگ پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ گزشتہ کچھ برسوں سے موسم گرما کے دوران آزاد جموں و کشمیر کو بجلی کے شدید بحران کا سامنا رہتا ہے۔ آزاد جموں و کشمیرمیں پن چکیوں کے ذریعے لوگ گندم اور مکئی پیستے ہیں راشد کے بقول، ”پن چکیوں کو پانی پہنچانے والے راستے گاو¿ں کے لیے بجلی بنانے کے کام آ سکتے ہیں۔“ وہ کہتے ہیں کہ انہیں یہ خیال قریب لگے ہوئے ایک بڑے پن بجلی گھر کو دیکھ کر آیا، جس میں بڑے بڑے ٹربائن نصب ہیں۔ ”اس طرح پیدا کی جانے والی اضافی بجلی حکومت کو فروخت بھی کی جا سکتی ہے۔“آزاد جموں و کشمیر یا اے جے کے کو مسلسل توانائی کی کمی کا سامنا ہے، حالانکہ یہ علاقہ اپنی ضروریات سے زیادہ بجلی پیدا کرتا ہے۔ اے جے کے کے توانائی کے محکمے کے سیکرٹری فیاض علی عباسی کہتے ہیں، ”ہماری ضرورت تین سو میگا واٹ ہے جبکہ ہم تقریباً ساڑھے گیارہ سو میگا ووٹ بجلی پیدا کرتے ہیں۔“ ارشد راشد کے مطابق بڑے بڑے منصوبوں پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کو پن چکیاں بنانے والوں کو ان کے جندروں پر چھوٹے ٹربائن لگانے میں مدد کرنی چاہیے۔ ”اس طرح کے ایک ٹربائن پر پانچ لاکھ پاکستانی روپے تک لاگت آئے گی۔ لیکن ابھی تک ہمیں اس سلسلے میں کوئی مدد نہیں ملی۔“مظفر آباد کے ایک قریبی گاو¿ں کے مسکین قریشی نامی ایک شخص نے اپنے جندر پر خود ہی بنایا ہوا ایک ٹربائن اور بجلی کو منتقل کرنے کے لیے ایک موٹر نصب کر رکھی ہے۔ قریشی نے بتایا کہ ٹربائن نصب کرنے میں ان کے بیٹے نے ان کی مدد کی جبکہ پڑوسی گاو¿ں کے ایک رہنما نے انہیں ایک چھوٹی سی موٹر فراہم کر دی۔ وہ کہتے ہیں کہ اس ٹربائن سے پیدا ہونے والی بجلی کو تانبے کی تاروں کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ تانبہ ٹیلیفوں کی پرانی تاروں سے حاصل کیا گیا ہے۔ مسکین قریشی کے بقول گھریلو سطح پر بجلی کے اس نظام کی تنصیب پر انہوں نے پچاس ہزار روپے خرچ کئے۔
آزادکشمیر کے شہری نے بجلی کے بحران کا انوکھا حل ڈھونڈ نکالا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
سرگودھا،بچی سے زیادتی کی تصدیق، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات
-
وزیرپیٹرولیم کاپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں بارے اہم اعلان
-
ایرانی ریال خریدنے والے خوش، کرنسی کی قدر میں بڑا اضافہ
-
نوجوانوں میں کینسر کے بڑھتے کیسز کی بڑی وجہ سامنے آگئی، نئی تحقیق
-
بالی ووڈ اداکارہ کا اکشے کمار سے متعلق چونکا دینے والا انکشاف
-
سونا ایک بار پھر مہنگا ہوگیا
-
موٹرویز نیٹ ورک میں اہم پیش رفت، ایم 13 موٹروے سے لاہور اسلام آباد کے سفر میں تقریباً 100 کلومیٹر ک...
-
راولپنڈی ،لین دین تنازعے پر پراپرٹی ڈیلرہلاک
-
برطانیہ جانے کے خواہشمندوں کےلئے بڑی خبر، محفوظ اور آسان قانونی راستوں کا اعلان
-
پاکستان میں یکم جولائی سے مون سون کا آغاز،محکمہ موسمیات نے اہم پیشگوئی کر دی
-
سرگودھا: بااثر افراد کی جانب سے مبینہ زیادتی کرنے کی شکایت پر ملزمان نے بچے کو زندہ دفن کر دیا
-
اسلام آباد ، لاہور اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلےکے شدید جھٹکے
-
ثانیہ اشفاق کے عماد وسیم پر سنگین الزامات، عماد کا سابقہ اہلیہ کو انتباہ
-
مری ایکسپریس وے پر مسافر وین مکمل جل گئی



















































