جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

آزادکشمیر کے شہری نے بجلی کے بحران کا انوکھا حل ڈھونڈ نکالا

datetime 20  جون‬‮  2015 |

مظفرآباد(نیوزڈیسک) آزادکشمیرسے تعلق رکھنے والے ارشد راشد کا خیال ہے کہ وہ پاکستان میں توانائی کے بحران کو ختم کر سکتے ہیں۔ ارشد راشد اس سلسلے میں پن چکیوں کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔آزاد کشمیر میں پن چکیوں کے نظام کو ’جندر‘ کہا جاتا ہے۔ مظفر آباد سے پچاس کلومیٹر دور واقع گاوں ’کتاہی‘ کہ باسی اسی نظام یعنی پن چکیوں کے ذریعے ہی گندم اور مکئی پیستے ہیں۔ اس علاقے کے رہائشی ارشد راشد کہتے ہیں کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جندر صدیوں سے زیر استعمال ہے اور اس میں پتھروں اور مٹی کو کاٹتے ہوئے پانی کا راستہ بنایا جاتا ہے۔ ارشد راشد کہتے ہیں کہ جندر کے ذریعے شفاف طریقےسے مفت بجلی بھی بنائی جاسکتی ہے۔ 38سالہ راشد کہتے ہیں کہ اگر ہر ایک پن چکی کو ایک چھوٹے سے ٹربائن کے ساتھ منسلک کر دیا جائے تو بجلی کی پیداوار شروع ہو جائے گی اور اس طرح لوڈشیڈنگ پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ گزشتہ کچھ برسوں سے موسم گرما کے دوران آزاد جموں و کشمیر کو بجلی کے شدید بحران کا سامنا رہتا ہے۔ آزاد جموں و کشمیرمیں پن چکیوں کے ذریعے لوگ گندم اور مکئی پیستے ہیں راشد کے بقول، ”پن چکیوں کو پانی پہنچانے والے راستے گاو¿ں کے لیے بجلی بنانے کے کام آ سکتے ہیں۔“ وہ کہتے ہیں کہ انہیں یہ خیال قریب لگے ہوئے ایک بڑے پن بجلی گھر کو دیکھ کر آیا، جس میں بڑے بڑے ٹربائن نصب ہیں۔ ”اس طرح پیدا کی جانے والی اضافی بجلی حکومت کو فروخت بھی کی جا سکتی ہے۔“آزاد جموں و کشمیر یا اے جے کے کو مسلسل توانائی کی کمی کا سامنا ہے، حالانکہ یہ علاقہ اپنی ضروریات سے زیادہ بجلی پیدا کرتا ہے۔ اے جے کے کے توانائی کے محکمے کے سیکرٹری فیاض علی عباسی کہتے ہیں، ”ہماری ضرورت تین سو میگا واٹ ہے جبکہ ہم تقریباً ساڑھے گیارہ سو میگا ووٹ بجلی پیدا کرتے ہیں۔“ ارشد راشد کے مطابق بڑے بڑے منصوبوں پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کو پن چکیاں بنانے والوں کو ان کے جندروں پر چھوٹے ٹربائن لگانے میں مدد کرنی چاہیے۔ ”اس طرح کے ایک ٹربائن پر پانچ لاکھ پاکستانی روپے تک لاگت آئے گی۔ لیکن ابھی تک ہمیں اس سلسلے میں کوئی مدد نہیں ملی۔“مظفر آباد کے ایک قریبی گاو¿ں کے مسکین قریشی نامی ایک شخص نے اپنے جندر پر خود ہی بنایا ہوا ایک ٹربائن اور بجلی کو منتقل کرنے کے لیے ایک موٹر نصب کر رکھی ہے۔ قریشی نے بتایا کہ ٹربائن نصب کرنے میں ان کے بیٹے نے ان کی مدد کی جبکہ پڑوسی گاو¿ں کے ایک رہنما نے انہیں ایک چھوٹی سی موٹر فراہم کر دی۔ وہ کہتے ہیں کہ اس ٹربائن سے پیدا ہونے والی بجلی کو تانبے کی تاروں کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ تانبہ ٹیلیفوں کی پرانی تاروں سے حاصل کیا گیا ہے۔ مسکین قریشی کے بقول گھریلو سطح پر بجلی کے اس نظام کی تنصیب پر انہوں نے پچاس ہزار روپے خرچ کئے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…