ہفتہ‬‮ ، 21 مارچ‬‮ 2026 

شمسی لہریں، سائنسدانوں نے اس خواب کو سچ کردکھانے میں کامیاب

datetime 9  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) جیمز کلارک میکس ویل نے اٹھارہویں صدی میں اپنے شہرہ آفاق ناول فرام دی ارتھ ٹو دی مون کے ذریعے دنیا کو ایک خواب دکھایا تھا کہ اور آج سائنسدان اس خواب کو سچ کردکھانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ یہ خواب شمسی لہروں پر سفر کا تھا جس کا مقصد نظام شمسی کے جائزے کے امکانات کو مزید وسعت دینا تھا۔ سائنسدانوں کا مفروضہ تھا کہ سورج سے نکلنے والے روشنی کے باریک ذرات کسی بھی خلائی گاڑی کو آگے کی جانب دھکیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور لائٹ سیل نے اس مفروضے کو سچ ثابت کرد کھایا ہے۔ اس سلسلے میں تجربے کا اہتمام پلینیٹری سوسائٹی نے کیا تھا۔ ان کی تیارکردہ خلائی گاڑی کا حجم ڈبل روٹی کے ایک بڑے ٹکڑے سے زیادہ نہ تھا۔ چار بائی چار انچ جس کی اونچائی کل ایک فٹ تھی۔ ایک ماہ کے تجربات کے بعد یہ خلائی گاڑی اندر کی جانب مڑے ہوئے پرزوں کی مدد سے اپنا سائز بڑھا چکی ہے اور اس کے اندر نظام شمسی کی زیادہ قریب سے نگرانی کیلئے موجود انتہائی باریک فلم بھی باہر نکل آئی ہے۔ اس سلسلے میں تیار کی گئی خاص گاڑی گزشتہ ماہ روانہ کی گئی تھی جس کے بعد سے اس سے پیغام وصول ہورہے تھے تاہم یہ مسلسل رابطہ قائم نہیں ہوپارہا تھا جس کی وجہ سے امکان یہی تھا کہ یہ گاڑی بھی ماضی کے تجربات کی طرح تباہی سے دوچار ہوجائے گی۔ اس سلسلے میں سائنسدانوں نے گزشتہ روز گاڑی کو سگنلز بھیجے تھے تاہم کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ دوسری بار پیغام نشر کرنے پر خلائی گاڑی نے پیغام وصول کرنے کے بعد اس میں موجود حکم کی روشنی میں کام بھی کیا۔امکان ہے کہ آج خلائی گاڑی زمین پر تصاویر بھیجے گی جس سے اس کی پوزیشن کی تصدیق ہوسکے گی۔لائٹ سیل کو قبل ازیں امریکی خلائی جہاز کو لے جانے والے راکٹ کے ذریعے روانہ کیا گیا تھا۔ اس نے خلا میں پہنچنے پر کام شروع کردیا تھا کہ دو دن بعد ہی سافٹ ویئر میں خرابی کی وجہ سے اس سے منسلک کمپیوٹر خراب ہوگیا تاہم خلا میں انتہائی تیز رفتار سے خارج ہونے والے ذرات کی بدولت یہ کمپیوٹر آٹھ روز بعد حیرت انگیز طور پر دوبار سٹارٹ ہوگیا۔ اس کے بعد سائنسدانوں نے دوبارہ منصوبہ پر کام شروع کردیا۔ اس سلسلے میں سولر پینلز کی تنصیب کا کام ابھی مکمل کیا ہی گیا تھا کہ خلائی گاڑی کی بیٹری میں مسئلہ پیدا ہوگیا اور اس نے کام چھوڑ دیا۔ امکان ہے کہ جس وقت خلائی گاڑی سائے سے نکل کے سورج کی تیز روشنی میں آئی تو اس سے پیدا ہونے والے الیکٹریکل کرنٹ کے سبب بیٹری نے کام چھوڑ دیا تھا۔ گزشتہ روز خلائی گاڑی سے رابطے کی تیسری کوشش کی گئی جو کہ کامیاب رہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…