جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

شمسی لہریں، سائنسدانوں نے اس خواب کو سچ کردکھانے میں کامیاب

datetime 9  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) جیمز کلارک میکس ویل نے اٹھارہویں صدی میں اپنے شہرہ آفاق ناول فرام دی ارتھ ٹو دی مون کے ذریعے دنیا کو ایک خواب دکھایا تھا کہ اور آج سائنسدان اس خواب کو سچ کردکھانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ یہ خواب شمسی لہروں پر سفر کا تھا جس کا مقصد نظام شمسی کے جائزے کے امکانات کو مزید وسعت دینا تھا۔ سائنسدانوں کا مفروضہ تھا کہ سورج سے نکلنے والے روشنی کے باریک ذرات کسی بھی خلائی گاڑی کو آگے کی جانب دھکیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور لائٹ سیل نے اس مفروضے کو سچ ثابت کرد کھایا ہے۔ اس سلسلے میں تجربے کا اہتمام پلینیٹری سوسائٹی نے کیا تھا۔ ان کی تیارکردہ خلائی گاڑی کا حجم ڈبل روٹی کے ایک بڑے ٹکڑے سے زیادہ نہ تھا۔ چار بائی چار انچ جس کی اونچائی کل ایک فٹ تھی۔ ایک ماہ کے تجربات کے بعد یہ خلائی گاڑی اندر کی جانب مڑے ہوئے پرزوں کی مدد سے اپنا سائز بڑھا چکی ہے اور اس کے اندر نظام شمسی کی زیادہ قریب سے نگرانی کیلئے موجود انتہائی باریک فلم بھی باہر نکل آئی ہے۔ اس سلسلے میں تیار کی گئی خاص گاڑی گزشتہ ماہ روانہ کی گئی تھی جس کے بعد سے اس سے پیغام وصول ہورہے تھے تاہم یہ مسلسل رابطہ قائم نہیں ہوپارہا تھا جس کی وجہ سے امکان یہی تھا کہ یہ گاڑی بھی ماضی کے تجربات کی طرح تباہی سے دوچار ہوجائے گی۔ اس سلسلے میں سائنسدانوں نے گزشتہ روز گاڑی کو سگنلز بھیجے تھے تاہم کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ دوسری بار پیغام نشر کرنے پر خلائی گاڑی نے پیغام وصول کرنے کے بعد اس میں موجود حکم کی روشنی میں کام بھی کیا۔امکان ہے کہ آج خلائی گاڑی زمین پر تصاویر بھیجے گی جس سے اس کی پوزیشن کی تصدیق ہوسکے گی۔لائٹ سیل کو قبل ازیں امریکی خلائی جہاز کو لے جانے والے راکٹ کے ذریعے روانہ کیا گیا تھا۔ اس نے خلا میں پہنچنے پر کام شروع کردیا تھا کہ دو دن بعد ہی سافٹ ویئر میں خرابی کی وجہ سے اس سے منسلک کمپیوٹر خراب ہوگیا تاہم خلا میں انتہائی تیز رفتار سے خارج ہونے والے ذرات کی بدولت یہ کمپیوٹر آٹھ روز بعد حیرت انگیز طور پر دوبار سٹارٹ ہوگیا۔ اس کے بعد سائنسدانوں نے دوبارہ منصوبہ پر کام شروع کردیا۔ اس سلسلے میں سولر پینلز کی تنصیب کا کام ابھی مکمل کیا ہی گیا تھا کہ خلائی گاڑی کی بیٹری میں مسئلہ پیدا ہوگیا اور اس نے کام چھوڑ دیا۔ امکان ہے کہ جس وقت خلائی گاڑی سائے سے نکل کے سورج کی تیز روشنی میں آئی تو اس سے پیدا ہونے والے الیکٹریکل کرنٹ کے سبب بیٹری نے کام چھوڑ دیا تھا۔ گزشتہ روز خلائی گاڑی سے رابطے کی تیسری کوشش کی گئی جو کہ کامیاب رہی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…