اسلام آباد(نیوزڈیسک) جیمز کلارک میکس ویل نے اٹھارہویں صدی میں اپنے شہرہ آفاق ناول فرام دی ارتھ ٹو دی مون کے ذریعے دنیا کو ایک خواب دکھایا تھا کہ اور آج سائنسدان اس خواب کو سچ کردکھانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ یہ خواب شمسی لہروں پر سفر کا تھا جس کا مقصد نظام شمسی کے جائزے کے امکانات کو مزید وسعت دینا تھا۔ سائنسدانوں کا مفروضہ تھا کہ سورج سے نکلنے والے روشنی کے باریک ذرات کسی بھی خلائی گاڑی کو آگے کی جانب دھکیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور لائٹ سیل نے اس مفروضے کو سچ ثابت کرد کھایا ہے۔ اس سلسلے میں تجربے کا اہتمام پلینیٹری سوسائٹی نے کیا تھا۔ ان کی تیارکردہ خلائی گاڑی کا حجم ڈبل روٹی کے ایک بڑے ٹکڑے سے زیادہ نہ تھا۔ چار بائی چار انچ جس کی اونچائی کل ایک فٹ تھی۔ ایک ماہ کے تجربات کے بعد یہ خلائی گاڑی اندر کی جانب مڑے ہوئے پرزوں کی مدد سے اپنا سائز بڑھا چکی ہے اور اس کے اندر نظام شمسی کی زیادہ قریب سے نگرانی کیلئے موجود انتہائی باریک فلم بھی باہر نکل آئی ہے۔ اس سلسلے میں تیار کی گئی خاص گاڑی گزشتہ ماہ روانہ کی گئی تھی جس کے بعد سے اس سے پیغام وصول ہورہے تھے تاہم یہ مسلسل رابطہ قائم نہیں ہوپارہا تھا جس کی وجہ سے امکان یہی تھا کہ یہ گاڑی بھی ماضی کے تجربات کی طرح تباہی سے دوچار ہوجائے گی۔ اس سلسلے میں سائنسدانوں نے گزشتہ روز گاڑی کو سگنلز بھیجے تھے تاہم کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ دوسری بار پیغام نشر کرنے پر خلائی گاڑی نے پیغام وصول کرنے کے بعد اس میں موجود حکم کی روشنی میں کام بھی کیا۔امکان ہے کہ آج خلائی گاڑی زمین پر تصاویر بھیجے گی جس سے اس کی پوزیشن کی تصدیق ہوسکے گی۔لائٹ سیل کو قبل ازیں امریکی خلائی جہاز کو لے جانے والے راکٹ کے ذریعے روانہ کیا گیا تھا۔ اس نے خلا میں پہنچنے پر کام شروع کردیا تھا کہ دو دن بعد ہی سافٹ ویئر میں خرابی کی وجہ سے اس سے منسلک کمپیوٹر خراب ہوگیا تاہم خلا میں انتہائی تیز رفتار سے خارج ہونے والے ذرات کی بدولت یہ کمپیوٹر آٹھ روز بعد حیرت انگیز طور پر دوبار سٹارٹ ہوگیا۔ اس کے بعد سائنسدانوں نے دوبارہ منصوبہ پر کام شروع کردیا۔ اس سلسلے میں سولر پینلز کی تنصیب کا کام ابھی مکمل کیا ہی گیا تھا کہ خلائی گاڑی کی بیٹری میں مسئلہ پیدا ہوگیا اور اس نے کام چھوڑ دیا۔ امکان ہے کہ جس وقت خلائی گاڑی سائے سے نکل کے سورج کی تیز روشنی میں آئی تو اس سے پیدا ہونے والے الیکٹریکل کرنٹ کے سبب بیٹری نے کام چھوڑ دیا تھا۔ گزشتہ روز خلائی گاڑی سے رابطے کی تیسری کوشش کی گئی جو کہ کامیاب رہی۔
شمسی لہریں، سائنسدانوں نے اس خواب کو سچ کردکھانے میں کامیاب
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)
-
دکانوں اور مارکیٹس کے نئے اوقات کار جاری، اب کتنے بجے بند ہوں گی؟
-
اطالوی وزیراعظم کا اپنی نازیبا تصویر پر ردعمل
-
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام : قرض حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر
-
بجلی کے بھاری بلوں میں ریلیف! بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
اپریل میں بارشیں معمول سے زیادہ ریکارڈ، آئندہ 3ماہ کا موسمی آئوٹ لک بھی جاری
-
اسلام آباد میں 30 سالہ فرخ چوہدری کے اغواء اور ہلاکت کا معمہ حل
-
معروف اداکار کی سیاسی جماعت بازی لے گئی
-
گاڑیوں کی خریداری۔۔! نیا حکم نامہ جاری
-
گرمی کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے موسم گرما کی تعطیلات کا شیڈول جاری کردیا
-
پیدائش سے 5 سال تک کے بچوں کو 3 ہزار روپے وظیفہ دینے کا فیصلہ
-
زلزلے کے جھٹکے ، لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے
-
قیامت خیز گرمی سے 9 افراد جاں بحق، 2 روز میں اموات 19 ہوگئیں
-
ایران امریکا جنگ: یو اے ای میں رہنا پاکستانیوں کیلئے مشکل ہوگیا، سیکڑوں ہم وطن واپس پہنچ گئے



















































