ہفتہ‬‮ ، 21 مارچ‬‮ 2026 

سیاہ ترین رنگ کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

datetime 7  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈ یسک )یونیورسٹی آف کیلی فورنیا سین ڈی ایگو میں ایک گریجویٹ طالب علم لزی کالڈول چھوٹے چھوٹے دھاتی سکوئر پر کالے رنگ کا پینٹ کر رہی ہیں۔ سائنسی تجربات کی صف میں شاید اتنا شاندار منظر نہیں۔مگر جو پینٹ وہ استعمال کر رہی ہیں وہ انتہائی پیچیدہ تحقیق کا نتیجہ ہے۔ شاید انسانی تخلیقات میں یہ سیاہ ترین مواد ہے۔ییونیورسٹی آف کیلی فورنیا کی تحقیقاتی ٹیم شمسی توانائی سے چلنے والے بجلی گھروں کو زیادہ موثر بنانے کے لیے ایسا مواد تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو زیادہ سے زیادہ شمسی تونائی جذب کر سکے دیر پا بھی ہو۔’ہارٹ آف ڈارکنس‘یہ پینٹ نئی طرز کے شمسی توانائی پلانٹس بنانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس میں ہزاروں شیشوں کی مدد سے سورج کی روشنی کو ایک مینار کی طرف منعکس کیا جاتا ہے جس پر یہ انتہائی سیاہ پینٹ لگا ہوتا ہے۔ اس روشنی کو شدید حرارت میں تبدیل کر کے اسے بھاپ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس بھاپ کی مدد سے بجلی پیدا کر جا سکتی ہے۔اس پلانٹ میں ہزاروں شیشوں کی مدد سے سورج کی روشنی کو ایک مینار کی طرف منعکس کیا جاتا ہے جس پر یہ انتہائی کالا پینٹ لگا ہوتا ہے۔یہ بجلی پیدا کرنا کا انتہائی ماحول دوست طریقہ ہے اور اس کی مدد سے پیٹرولیم مصنوعات کی مدد سے بجلی پیدا کرنے والے موجودہ پلانٹس کو اس ٹیکنالوجی پر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس حرارت کو سنبھالا بھی جا سکتا ہے تاکہ جب سورج نہ چمک رہا ہو تب بھی بجلی پیدا کی جا سکے۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ روشنی جذب کرنے کے لیے موجودہ مواد کی پرفارمنس ناکافی ہے۔ وہ اس قابل نہیں کہ اس قدر حرارت برداشت کر سکیں اور نہ ہی وہ زیادہ دیر پا ہیں۔سائنس دانوں کی ٹیم میں شامل پروفیسر ریکن چین کا کہنا ہے کہ نیا مواد انتہائی مختلف ہو گا۔’سب سے پہلے تو یہ انتہائی موثر طریقے سے سورج کی روشنی کو جذب کرتا ہے۔ دوسرا یہ 700 ڈگری سینٹی گریڈ تک حرارت برداشت کر لیتا ہے۔ یہ سب موجود مواد کے ساتھ ممکن نہیں۔‘مواد جتنا کالا ہوتا ہے اتنی ہی زیادہ شمسی روشنی جذب کرتا ہے۔اس نئے پینٹ کا راز نینو ٹیکنالوجی میں ہے۔ اس کی سطح پر ایسے ذرات ہوتے ہیں جو کہ روشنی کا انعکاس انتہائی کم کر دیتے ہیں۔اس کی سطح پر ایسے ذرات ہوتے ہیں جو کہ روشنی کا انعکاس انتہائی کم کر دیتے ہیںتحقیقی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ یہ پینٹ سورج سے آنے والی 90 فیصد روشنی جذب کر لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے ذرات کا حجم روشنی کی ویوولنتھ کے قریب ہے جس کے ذریعے یہ زیادہ سے زیادہ روشنی جذب کر لیتے ہیں۔اس کے ذرات اس قدر چھوٹے ہیں کہ روشنی جب اس میں داخل ہوتی ہے تو ایسے پھنس جاتی ہے جیسے کہ کوئی گھنے جنگل میں گم ہو جائے۔‘مگر یہ تو ہے نظریہ۔ اور یہ چھوٹے چھوٹے دھاتی مربع اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ نظریات کو عملی شکل دینا کتنا مشکل ہے۔یہ نینو ذرات خوردبین کی مدد سے دیکھے جا سکتے ہیںہر مربع کا فارمولا ایک دوسرے سے ذرا سا مختلف ہے کیونکہ ٹیم بہترین فارمولے کی تلاش میں ہے

150605152055_solar_painting_624x351_getty_nocredit

۔’ففٹی شیڈز آف بلیک‘محققین کا کہنا ہے کہ سب سے کالے رنگ کی تلاش میں ہیں۔ خوردبین کے نیچے یہ نینو ذرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس تحقیق کے لیے مالی امداد امریکی حکومت کے سن شاٹ پروگرام سے کی جا رہی ہے جس کا مقصد شمسی تونائی کو توانائی کے دیگر وسائل جتنا منافع مند بنایا جا سکے۔مگر اس خواب کی تعبیر میں ابھی بہت وقت چاہیے۔ بڑے پیمانے پر پیدا کی گئی بجلی میں سے صرف ایک فیصد شمسی توانائی سے آتی ہے، تاہم شمسی تونائی کا رجحان دنیا بھر میں بڑھ رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…