جمعرات‬‮ ، 07 مئی‬‮‬‮ 2026 

سیاہ ترین رنگ کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

datetime 7  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈ یسک )یونیورسٹی آف کیلی فورنیا سین ڈی ایگو میں ایک گریجویٹ طالب علم لزی کالڈول چھوٹے چھوٹے دھاتی سکوئر پر کالے رنگ کا پینٹ کر رہی ہیں۔ سائنسی تجربات کی صف میں شاید اتنا شاندار منظر نہیں۔مگر جو پینٹ وہ استعمال کر رہی ہیں وہ انتہائی پیچیدہ تحقیق کا نتیجہ ہے۔ شاید انسانی تخلیقات میں یہ سیاہ ترین مواد ہے۔ییونیورسٹی آف کیلی فورنیا کی تحقیقاتی ٹیم شمسی توانائی سے چلنے والے بجلی گھروں کو زیادہ موثر بنانے کے لیے ایسا مواد تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو زیادہ سے زیادہ شمسی تونائی جذب کر سکے دیر پا بھی ہو۔’ہارٹ آف ڈارکنس‘یہ پینٹ نئی طرز کے شمسی توانائی پلانٹس بنانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس میں ہزاروں شیشوں کی مدد سے سورج کی روشنی کو ایک مینار کی طرف منعکس کیا جاتا ہے جس پر یہ انتہائی سیاہ پینٹ لگا ہوتا ہے۔ اس روشنی کو شدید حرارت میں تبدیل کر کے اسے بھاپ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس بھاپ کی مدد سے بجلی پیدا کر جا سکتی ہے۔اس پلانٹ میں ہزاروں شیشوں کی مدد سے سورج کی روشنی کو ایک مینار کی طرف منعکس کیا جاتا ہے جس پر یہ انتہائی کالا پینٹ لگا ہوتا ہے۔یہ بجلی پیدا کرنا کا انتہائی ماحول دوست طریقہ ہے اور اس کی مدد سے پیٹرولیم مصنوعات کی مدد سے بجلی پیدا کرنے والے موجودہ پلانٹس کو اس ٹیکنالوجی پر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس حرارت کو سنبھالا بھی جا سکتا ہے تاکہ جب سورج نہ چمک رہا ہو تب بھی بجلی پیدا کی جا سکے۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ روشنی جذب کرنے کے لیے موجودہ مواد کی پرفارمنس ناکافی ہے۔ وہ اس قابل نہیں کہ اس قدر حرارت برداشت کر سکیں اور نہ ہی وہ زیادہ دیر پا ہیں۔سائنس دانوں کی ٹیم میں شامل پروفیسر ریکن چین کا کہنا ہے کہ نیا مواد انتہائی مختلف ہو گا۔’سب سے پہلے تو یہ انتہائی موثر طریقے سے سورج کی روشنی کو جذب کرتا ہے۔ دوسرا یہ 700 ڈگری سینٹی گریڈ تک حرارت برداشت کر لیتا ہے۔ یہ سب موجود مواد کے ساتھ ممکن نہیں۔‘مواد جتنا کالا ہوتا ہے اتنی ہی زیادہ شمسی روشنی جذب کرتا ہے۔اس نئے پینٹ کا راز نینو ٹیکنالوجی میں ہے۔ اس کی سطح پر ایسے ذرات ہوتے ہیں جو کہ روشنی کا انعکاس انتہائی کم کر دیتے ہیں۔اس کی سطح پر ایسے ذرات ہوتے ہیں جو کہ روشنی کا انعکاس انتہائی کم کر دیتے ہیںتحقیقی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ یہ پینٹ سورج سے آنے والی 90 فیصد روشنی جذب کر لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے ذرات کا حجم روشنی کی ویوولنتھ کے قریب ہے جس کے ذریعے یہ زیادہ سے زیادہ روشنی جذب کر لیتے ہیں۔اس کے ذرات اس قدر چھوٹے ہیں کہ روشنی جب اس میں داخل ہوتی ہے تو ایسے پھنس جاتی ہے جیسے کہ کوئی گھنے جنگل میں گم ہو جائے۔‘مگر یہ تو ہے نظریہ۔ اور یہ چھوٹے چھوٹے دھاتی مربع اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ نظریات کو عملی شکل دینا کتنا مشکل ہے۔یہ نینو ذرات خوردبین کی مدد سے دیکھے جا سکتے ہیںہر مربع کا فارمولا ایک دوسرے سے ذرا سا مختلف ہے کیونکہ ٹیم بہترین فارمولے کی تلاش میں ہے

150605152055_solar_painting_624x351_getty_nocredit

۔’ففٹی شیڈز آف بلیک‘محققین کا کہنا ہے کہ سب سے کالے رنگ کی تلاش میں ہیں۔ خوردبین کے نیچے یہ نینو ذرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس تحقیق کے لیے مالی امداد امریکی حکومت کے سن شاٹ پروگرام سے کی جا رہی ہے جس کا مقصد شمسی تونائی کو توانائی کے دیگر وسائل جتنا منافع مند بنایا جا سکے۔مگر اس خواب کی تعبیر میں ابھی بہت وقت چاہیے۔ بڑے پیمانے پر پیدا کی گئی بجلی میں سے صرف ایک فیصد شمسی توانائی سے آتی ہے، تاہم شمسی تونائی کا رجحان دنیا بھر میں بڑھ رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)


مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…