جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

دنیا کے سب سے بڑے خلائی مرکز کے ساٹھ سال

datetime 1  جون‬‮  2015 |

ماسکو(نیوزڈیسک )دو جون 1955ء میں ماسکو کی سابقہ سوویت یونین حکومت نے اس خلائی مرکز کو تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور جون 1961ءمیں یہاں سے انتہائی فخریہ انداز میں انسان کو خلاء میں بھیجا گیا تھا۔ تاہم خوشی اور غم کے ملے جلے جذبات کے ساتھ بیکانور خلائی مرکز کی ساٹھویں سالگرہ منائی جا رہی ہے کیونکہ روسی خلائی پروگرام اس وقت اپنے شدید ترین بحران سے گزر رہا ہے۔ ابھی کچھ دنوں قبل ہی بیکانور سے خلاء میں بھیجے جانے والے راکٹوں کے دو تجربے ناکام ہوئے اور ان واقعات نے خلائی سفر کے حوالے سے اپنے اوپر فخر کرنے والی روسی قوم کے ارادوں اور اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ ان میں سے ایک راکٹ بین الاقوامی خلائی مرکز کے لیے سامان لے جانے کے دوران بے قابو ہو گیا جبکہ دوسرا خلاءمیں موجود ایک دوسرے سیٹیلائٹ سے ٹکرا کر سائبیریا کے گھنے جنگلات میں گر گیا۔ اس کے بعد سے بیکانورسے راکٹ خلاء میں بھیجنے پر پابندی ہے۔ اس حوالے سے روسی انجینیئرز کا کہنا ہے کہ ” یہ معمول کی بات ہے‘۔قزاقستان کا بیکانور مرکز دنیا کا سب سے بڑا خلائی سینٹر ہے۔ دو جون کو اس مرکز کے ساٹھ برس پورے ہو رہے ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ غیر واضح ہے کہ روس اسے مزید کتنے عرصے تک استعمال کرنا چاہتا ہے۔ 1955ئ میں سابقہ سوویت دور میں اس خلائی مرکز کی تعمیر کو انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا اور اسے ایک قومی راز کا درجہ دیا گیا تھا۔تاہم اس کی کامیابی تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ آج بھی قزاقستان کا یہ علاقہ کافی حد تک خفیہ ہی رکھا گیا ہے۔روسی صدر ولادی میر پوٹن نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ بیکانور کی تعمیر روسی قوم کی جانب سے ایک کارنامے سے کم نہیں تھی کیونکہ دوسری عالمی جنگ کو ختم ہوئے ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا۔“ 1957ء اس مرکز کو پہلی کامیابی اس وقت ملی جب یہاں بین البراعظمی میزائل کا ٹیسٹ کیا گیا۔یہ خلائی مرکز ماسکو سے ڈھائی ہزار کلومیٹر جنوب مشرق کی جانب ایک غیر آباد علاقے میں واقع ہے۔ خط استوا کے نزدیک ہونے کی وجہ سے یہاں سے روانہ کیے جانے والے راکٹ اور خلائی جہاز اپنے مقررہ مدار میں نسبتاً جلدی پہنچ جاتے ہیں۔بیکانور میں بارہ مقامات سے راکٹ یا جہازوں کو خلائ میں بھیجا جا سکتا ہے لیکن یہ تمام فعال نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ کئی عمارتیں اور سڑکیں تباہی کا شکار ہیں جبکہ موسم کی شدت بھی اس مرکز کو بہت تیزی سے بوڑھا کر رہی ہے۔ گرمی میں یہاں درجہ حرارت پچاس سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے جبکہ سردی میں اس علاقے کا درجہ حرارت منفی پچاس تک ہو جاتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…