جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

سطح سمندر : 4350 میٹر کی بلندی ، مون بلاں کی برف پوش چوٹی ایلپس کا فریزر معلوم ہوتی ہے

datetime 28  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیو ز ڈیسک )سائنس دان برف کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے بچانے کے لیے قطبِ جنوبی پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ زمین کے سرد ترین مقام پر برف کے نمونے پہنچا کر انھیں محفوظ بنایا جا سکے۔ایلپس کے پہاڑی سلسلے میں پر سطح سمندر سے 4350 میٹر کی بلندی پر مون بلاں کی برف پوش چوٹی ایلپس کا فریزر معلوم ہوتی ہے۔تاہم فرانس کے نیشنل سینٹرل برائے سائنٹیفک ریسرچ سے وابستہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ گلیشیئر کا درجہ حرارت بدل رہا ہے اور سنہ 2005 کے مقابلے میں اس میں ڈیڑھ سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے۔ریسرچ سینٹر سے وابستہ سائنس دان جیرمی چیپلز کا کہنا ہے کہ ’جہاں تک غیر قطبی گلیشیئروں کا تعلق ہے تو عالمی حدت میں اضافے کی وجہ سے رواں صدی میں کئی گلیشیئر غائب ہو جائیں گے۔ بلندی پر موجود گلیشیئر بھی موسمِ گرما میں پگھلنے لگتے ہیں۔‘’ہم وہ واحد ادارہ ہیں جو ا±ن گلیشیئروں کو محفوظ کر رہے ہیں جن کے معدوم ہونے کا خطرہ ہے۔ اگر آپ مونگوں پر کام کرنا چاہتے ہیں یا سمندری حیات پر، تو صدیوں تک تحقیق کے لیے خام مواد ہمارے پاس موجود ہے۔‘ابھی تک گلیشیئروں کی برف کو کم مقدار میں اکٹھا کرنے کے بعد ا±س پر تحقیق ہو سکی ہے اور سنہ 2016 میں مون بلاں کے کول دو ڈو مقام کی برف قطبِ جنوبی میں ذخیرہ کی جائے گی۔فرانس اور اٹلی کے مشترکہ تحقیق مشن کے تحت گلیشیئر کے نمونوں کو قطب جنوبی میں پہنچانے سے قبل برف کے غار میں رکھا گیا ہے اور اس سرنگ نما فریزر میں درجہ حرارت منفی 50 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔

گلیشیئر سے 130 میٹر لمبی اور دس سینٹی میٹر قطر کی برف کی سلاخیں نکالی گئی ہیںگلیشیئر سے 130 میٹر لمبی اور دس سینٹی میٹر قطر کی برف کی سلاخیں نکالی گئی ہیں۔ٹیم نے برف کی تین سلاخیں کوہِ ایلپس اور تین اینڈیز سے نکالیں۔ ان میں سے دو دو سلاخیں قطبِ جنوبی پر بھیجی جائیں گی اور باقی ماندہ ایک، ایک سلاخ پر فرانس کی لیبارٹری میں تحقیق کی جائے گی۔گلیشیئر کی برف کے ان نمونوں کے ڈیٹا کی مدد سے سائنس دان اس قابل ہو سکیں گے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے ماڈل بنائیں، تاکہ مستقبل میں اس بارے میں جامع تحقیقات کی جا سکیں۔قطبین پر برف کی موجودگی کے آثار تو لاکھوں سال سے موجود ہیں لیکن پہاڑوں پر برف کی موجودگی کا پتہ 18 ہزار سال پہلے لگایا گیا تھا۔ سائنس دانوں کے مطابق گلیشیئروں کے نزدیک آبادیاں زیادہ ہوتی ہیں اور صنعتی انقلاب کے بعد سے گلیشیئر خطرے سے دوچار ہیں۔سائنس دان جیرمی چیپلز نے کہا کہ آئس کورز یا برف کی سلاخوں کو قطبِ جنوبی میں زیادہ سے زیادہ ٹھنڈا رکھا جائے گا اور زمین پر قطبِ جنوبی یقینی طور پر قابلِ اعتماد فریزر ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کا دوسرا متبادل یہ تھا کہ ہم برف کو روایتی فریزر میں محفوظ کرتے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ اگلی نسلوں کے لیے ہے، بالکل اسی طرح جیسے ماحولیاتی تبدیلیوں کا سبب ہم ہیں اور ان کے نتائج ہماری آنے والی نسلیں برداشت کریں گی۔

150527134207_ice_freezer_north_pole__624x351_bbc_nocredit



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…