جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

زمین سے دور بھی کوئی آ پ پر نگاہ رکھے ہوئے ہے

datetime 12  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ رات سونے سے قبل جب آپ اپنے بیڈروم کی کھڑکی سے تاروں بھرا آسمان دیکھنے میں مصروف ہوتے ہیں تو اس وقت آسمان پر بھی کوئی ہوتا ہے جو آپ کی نگرانی کرتا ہے۔ جی ہاں ناسا کی بنائی ہوئی ارتھ آبزرویشن ٹیکنالوجی کی بدولت یہ ممکن ہے۔ایک اندازے کے مطابق اس وقت زمین کے گرد فضا میں سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعدادمیں سیٹلائٹس موجود ہیں جن کے طاقتور لینسز کا رخ زمین کی جانب ہے اور وہ زمین پر ہونے والی مختلف قسم کی سرگرمیوں کی نگرانی میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہں۔ صرف امریکی ادارے ناسا کے ہی درجن بھر سے زائد سیارے اس وقت زمین کے گرد مدار میں گھوم رہے ہیں۔ان سیاروں پر مبنی ناسا کے پروگرام کا نام ارتھ آبزرونگ سسٹم پروگرام ہے۔ ان میں سے کچھ کا ذمہ زمین کی تصاویر لینا ہے جبکہ دیگر سمندر، ماحول، برف حتیٰ کہ کرہ ارض پر کشش ثقل کی مقدار اوراسکے مقناطیسی میدان کی نگرانی بھی ان سیٹلائٹس کے ذریعے عمل میں آتی ہے۔ اس کے علاوہ لینڈ سیٹ سیٹلائٹس بھی اس مدار میں موجود ہیں۔ اس سلسلے کا پہلا سیٹلائٹ1972میں خلا میں چھوڑا گیا تھا۔اس وقت زمین کی فوٹوگرافی سائنسی مقاصد کیلئے کی جاتی تھی۔ زمین کی متعدد خوبصورت ترین تصاویر اسی پروگرام کے تحت لی گئی تھیں۔ اس سلسلے کا آٹھواں سیٹلائٹ2013میں خلا میں چھوڑا گیا تھا اور اگلے سیٹلائٹ کے منصوبے پر کام جاری ہے۔لینڈ سیٹ 8 ہر سولہویں دن پورے کرہ ارض کی تصاویر کھینچتا ہے۔ حتی کہ یہ سیارہ یہ بھی دیکھ سکتا ہے کہ آپ نے اپنی کافی میں کیا ملایا ہے اور یہ 15میٹر کی ریزولوشن سے ہوتی ہیں۔ تصاویر کی صورت میں کی جانے والی یہ نگرانی کس قدر خطرناک ہے، اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ حکومتوں سے لے کے ذاتی زندگی تک ہر قسم کی جاسوسی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیے:سمارٹ فون پر فلم دیکھنے پر کتنے پیسے خرچ ہوتے ہیں؟

یہ سیٹلائٹ پروگرام آپ کو یہ بتاسکتا ہے کہ آپ نے گزشتہ 16دن کے دوران کیا کیا۔ گوگل میپس پر دکھائی دینے والے نقشے زیادہ واضح نہیں ہوتے ہیں، اور اس کی وجہ سے اکثریت سمجھتی ہے کہ سیٹلائٹ سے کھینچی جانے والی تصاویرزیادہ خطرناک نہیں ہیں۔ تاہم درحقیقت گوگل میپ میں دکھائی دینے والی تصاویر کی اکثریت ہوائی جہاز سے چند سو میٹر کی بلندی سے کھینچی گئی تصاویر ہوتی ہیں۔
فی الحال مارکیٹ میں دستیاب سیٹلائٹ امیجز کی ریزولوشن41سینٹی میٹر ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ باآسانی کسی بھی شخص کے لباس کی مکمل تفصیلات معلوم کرسکتا ہے تاہم ایسا دکھائی نہیں دیتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے زیادہ کی اجازت موجود نہیں ہے مگر اب تازہ ترین لانچ کئے گئے ورلڈ ویو تھری سیٹلائٹ کو25 سینٹی میٹر ریزولوشن کی تصاویر لینے کی اجازت بھی مل چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس سیٹلائٹ سے کھینچی گئی تصاویر سے یہ معلوم کیا جاسکے گا کہ آپ کے کار پورچ میں کھڑی ہوئی سواری کار ہے یا ٹرک۔ حقیقت یہ ہے کہ محض دعوے ہیں۔ سائنسی ماہرین اور ناسا جیسے ادارے زمین کی نگرانی جب ہبل ٹیلی سکوپ جیسی طاقتور ٹیلی سکوپس کی مدد لیتے ہیں تو کوئی نہیں جانتا ہے کہ وہ کس قدر ریزولوشن کی تصاویر لے سکتے ہیں اور ان سے کھینچی گئی تصاویر کس قدر واضح اور صاف ہوتی ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…