جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ماہرین نے چپٹے کیمرہ لینس تیار کرلئے

datetime 11  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(ویب ڈیسک) جس طرح آج سمارٹ فونز کو رول بنا کے جیب میں ڈالنا یا بٹوے میں رکھ لینا خواب دکھائی دیتا ہے، کم وبیش چند برس پہلے تک کیمرہ لینس کے چپٹے ہونے کا تصور بھی ایسے ہی تھا تاہم اب ماہرین لینس کی ساخت کو کامیابی سے تبدیل کرچکے ہیں۔ کیمرہ لینس کا چپٹا ہونا کسی عام آدمی کیلئے زیادہ فرق کی بات نہیں تاہم ایک ماہر فوٹوگرافر ہی لینس کے چپٹا ہونے کی اہمیت کو سمجھ سکتا ہے، اس کی وجہ سے تصاویر کو اب مزید شفاف اور واضح بنانے میں مدد ملے گی۔ ماہرین چپٹے لینس کی تیاری کے لئے طویل عرصے سے کوشش کررہے تھے۔ اس سلسلے میں بڑی کامیابی 2012میں اس وقت ملی تھی جب ہارورڈ یونیورسٹی کے فزیسٹ اور انجینیئر فریڈریکو کپیسو اور ان کے ساتھیوں نے انتہائی باریک لینس تیار کئے۔ اس میں کرویچر کی کمی تھی تاہم یہ مائیکروسکوپک سلیکان رجز کی مدد سے روشنی کو فوکس کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اس لینس کے ساتھ بڑا مسئلہ یہ تھا کہ یہ صرف ایک رنگ کی ویو لینتھ پر ہی ٹھیک کام کررہے تھے۔ تازہ ترین تجربے میں ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ لینس سرخ، نیلے اور سبز رنگ کی روشنیوں پر سو فیصد درست طریقے سے فوکس کرسکتا ہے جس کی وجہ سے یہ متعدد رنگوں پر مبنی روشنیوں یعنی کہ رنگین تصاویر کو بھی عمدگی سے کھینچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چپٹے لینس کی تیاری فوٹوگرافی کی دنیا میں کسی دھماکے دار خبر سے کم نہیں ہے کیونکہ اس کی وجہ سے لینس کی قیمت بھی کم ہوگی جس کی بدولت فوٹوگرافی، مائیکروسکوپی اور ایسٹرونومی کے سامان کی لاگت میں بھی کمی آئے گی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ لینس کا نام اس کی نیم کرہ نما ساخت کی وجہ سے رکھا گیا تھا۔ دالوں سے مشابہہ دکھائی دینے کے سبب اسے ماہرین نے لینس کا نام دیا تھا۔ اب جبکہ لینس ”لینٹل“ نما دکھائی نہ دیں گے تو کیا انہیں لینس کہنا مناسب ہوگا یا نہیں۔ یہ بحث اب عنقریب زور پکڑنے والی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…