جمعرات‬‮ ، 07 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاکستان کے طالبعلم نے نابینا افراد کےلئے خصوصی کیپ تیار کر لی

datetime 9  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) پاکستان کے ہونہار نوجوان اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے دنیا کے کسی بھی ملک کے طلبہ سے کم نہیں جس کی تازہ ترین مثال پشاور کے طلبہ ہیں جنہوں نے نابینا افراد کے لئے چھڑی کی مدد کے بغیر چلنے والا خصوصی ٹوپی تیار کی ہے۔پشاور یونیورسٹی کے 4 ہونہار طلبہ علموں نے نابینا افراد کے لیے الیکٹرانک کیپ فار بلائینڈز کے نام سے ایک ایسا ہیلمٹ تیار کیا ہے جس کی مدد سے بینائی سے محروم افراد آسانی کے ساتھ چل پھر سکتے ہیں۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ الیکٹرانکس کے طالب علموں نے اس الیکٹرانک کیپ کو صرف 2 ماہ کی قلیل مدت میں 7 ہزار روپے کی لاگت سے تیار کیا ہے۔الیکٹرانک کیپ تیار کرنے والے طالب علموں کا کہنا ہے کہ اس ہیلمٹ نما ٹوپی کی مدد سے نابینا افراد بھی دوسرے لوگوں کی طرح روزمرہ کے کام کر سکتے ہیں۔ یہ الیکٹرانک کیپ ایک بیٹری کی مدد سے چلتی ہے، کیپ کے چاروں اطراف سینسرز لگائے گئے ہیں جو کہ راستے میں آنے والی رکاوٹوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور رکاوٹ قریب آنے کی صورت میں آواز یا پھر وائبریشن کے ذریعے خبردار کرتی ہے، یہ آواز یا وائبریشن الیکٹرانک کیپ کے صرف ا±س ر±خ پر ہوتی ہے جس سے رکاوٹ کی نشاندہی ہوتی ہے۔پراجیکٹ سپروائزر ڈاکٹر محمد آصف کا کہنا ہے کہ یہ طالب علموں کی ایک بہت ہی اچھی کاوش ہے جس سے مستقبل میں فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پراجیکٹ کو دوسرے مرحلے میں گوگل میپ کے ساتھ منسلک کیا جائے گا تاکہ یہ کیپ اور زیادہ بہتر طریقے سے کام کرسکے۔پروفیسر آصف کہتے ہیں کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی اداروں اور انڈسٹری کے درمیان رابطوں کا بہت زیادہ فقدان ہے، بدقسمتی سے نئی ایجادات کو مارکیٹ میں متعارف نہیں کرایا جاتا جس کی وجہ سے اچھی ایجادات محض کتابوں تک محدود رہ جاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کے کچھ اساتذہ اور طالب علموں نے بھی اس الیکٹرانک ٹوپی میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور وہ اس میں جدید سافٹ ویئر ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے لیے کوشاں ہیں جو بہت خوش آئند بات ہے، طالب علموں کی اس ایجاد کو نابینا افراد کی بینائی کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا۔دوسری جانب یونیورسٹی آف انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے طالبعلموں نے پشاور یونی ورسٹی کے طالبعلموں کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ اس ٹوپی میں رکاوٹوں سے بچنے کا نظام موجود ہے لیکن اس کو مزید بہتر بنانے کے لیے اس میں چہروں کی نشاندہی کا سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا جس کی مدد سے قریب آنے والے کسی بھی فرد کی نشاندہی ممکن ہو سکے گی، اس نظام کے لیے اس الیکٹرانک کیپ میں ایسا ڈیٹا بیس سسٹم متعارف کرایا جائے گا جس میں ٹوپی پہننے والے فرد کے تمام جاننے والوں کی تصاویر ہوں گی جس کی مدد سے نابینا افراد کے لئے کسی بھی فرد کی شناخت بہت آسان ہو جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)


مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…