مایوسی سے پیچھا چھڑانے کا آسان حل :تحقیق

  ہفتہ‬‮ 18 اپریل‬‮ 2015  |  12:00

اسلا م آ باد (نیوز ڈیسک )ایک تحقیق کے مطابق محبت اور دکھ کے بعد مایوسی دنیا بھر میں سب سے زیادہ محسوس کیا جانے والا جذبہ ہے۔ زندگی میں ملنے والی کامیابیاں انسان کو خوشی دیتی ہیں جبکہ امور زندگی میں ناکام انسان کو دکھ دیتی اور مایوسی میں دھکیل دیتی ہے۔ یہی مایوسی اگر شدت اختیار کرتی جائے تو ایسے میں یہ ڈپریشن کی مستقل شکل اختیار کرلیتی ہے۔ماہرین کے مطابق عام افرادمیں مایوسی کا جذبہ پیدا محسوس کرنے کا اتفاق سب سے زیادہ ان افراد کے ساتھ ہوتا ہے جو کہ کھیلوں کے شوقین ہوتے ہیں اور


پسندیدہ ٹیم کے ہارنے پر جذبات کیا ہوتے ہیں، یہ تو ہر وہ پاکستانی باآسانی سمجھ سکتا ہے جس نے آج بنگلہ دیش کیخلاف سیریز میں پاکستان کی جانب سے کارکردگی کیلئے امیدیں باندھیں تھیں۔ کھیلوں میں عام طورپر صورتحال غیر یقینی سی ہوتی ہے۔ ٹیم ہارے گی یا جیتے گی، اس بارے میں کچھ نہیں پتہ ہوتا ہے جبکہ کھیل سے لگاو¿ اورٹیم سے محبت کھیل دیکھنے پر راغب بھی کرتی ہے، ایسے میں جب ٹیم ہار جائے تو پھر مایوسی سر اٹھانے لگتی ہے۔ماہرین کی رائے میں علم نفسیات کی رو سے مایوسی کی کیفیت پیدا ہونے کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں۔ اگر نتائج غیر یقینی ہوں تو بھی ناکام ہونے پر مایوسی ہوتی ہے۔ جس وقت یہ امید ہو کہ نتیجہ مثبت ہوگا اور وہ منفی ہو، تو بھی مایوسی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ جس وقت یہ محسوس ہو کہ آپ نتائج کے اپنے حق میں ہونے کے حقدار تھے، تب بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ جس وقت انسان اپنے ذاتی رویئے کے ذریعے نتائج کو قابو میں نہ کر سکے تو بھی اسے مایوسی کی کیفیت گھیرے میں لے لیتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی مایوسی کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مایوسی کی اس کیفیت سے باہر آنے کیلئے کیا صورت ہوسکتی ہے؟ اس حوالے سے ماہرین چند آزمودہ طریقے بتاتے ہیں، جن پر عمل درآمد سے مایوسی سے نمٹا جاسکتا ہے۔ خود کو بتائیں کہ آپ برآمد نہ ہوسکنے والے نتائج کی توقع نہیں کررہے تھے۔آپ جیتیں گے، اسکی توقع آپ کو بالکل نہ تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کی تازہ سوچ دماغ میں جگہ پالے گی جبکہ گزشتہ سوچ ختم ہوجائے گی جس کے ساتھ ہی مایوسی کی کیفیت بھی ختم ہوجائے گی۔اپنے اندر مایوسی کو سہنے کی صلاحیت بڑھائیے۔کچھ لوگوں میں مایوسی پیدا ہونے کا امکان دوسروں سے زیادہ ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اگر چہ اس کیفیت کو ختم تو نہیں کرسکتے لیکن اس کیفیت کو اس حد تک خود پر حاوی ہونے سے روک سکتے ہیں کہ جس میں فرد قنوطیت پسند ہوجائے۔مایوسی کے عالم میں معاشی سرگرمیاں نقصان دہ ہوتی ہیں۔اس لئے کبھی بھی میچ ہارنے کے فوری بعد اپنا بلا او ایل ایکس پر بیچنے کی مت ٹھانیں بلکہ اپنے جذبات ٹھنڈے ہونے کا انتظار کریں، آپ کا فیصلہ خود بخود ہی تبدیل ہوجائے گا۔اگر پاکستان میچ میں ہار جاتا ہے تو اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں ہے، دل کو یہ سمجھانے کی کوشش کریں کہ وہ کون سی وجوہات تھیں جن کی وجہ سے ان کی ناکامی یقینی تھی اور آپ کیلئے ان کو بدلنا ممکن نہ تھا۔اگر آپ کی مایوسی کی وجہ کالج میں آپ کے پسندیدہ ترین لیڈر کی الیکشن میں ناکامی ہے تو اپنی پسند کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ کسی بھی فرد، ادارے یا پھر ٹیم کے ساتھ وابستگی یا لگاو¿ اور اس کے ساتھ مخلص ہونا ایک اچھی عادت ہے تاہم اگر آپ کا پسندیدہ کھلاڑی راجر فیڈرر ہے جو کہ گرینڈ سلام فائنل میں کسی ان سیڈڈ پلیئر سے ہار رہا ہے تو اس میں آپ کے دکھی ہونے یا فیڈرر کو پسند کرنا چھوڑ دینے سے کسی فرد کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ اس لئے ایسی مایوسی کیفیات میں اپنی ترجیحات اور پسند بدلنے پر غور کرنا چاہئے، اس طرح آپ خود کو بہتر محسوس کریں گے۔مایوسی ملنے پر اس کا غم منانے سے غم کم نہیں ہوگا۔ غم کو غلط کرنا پڑے گا اور اس کیلئے تفریح، مزاحیہ پروگرامز مثلاً مشاعرے وغیرہ سننا آپ کے مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرے گا۔ کوئی اور ایسی سرگرمی جو آپ کے مزاج کو تبدیل کرے، اسے اپنانے کی کوشش کریں، مایوسی کی کیفیت خود بخود ختم ہوجائے گی۔