بدھ‬‮ ، 28 جنوری‬‮ 2026 

بڑوں کی گیمیں بچوں کو مت کھیلنے دیں :اساتذہ کا انتباہ

datetime 30  مارچ‬‮  2015 |

برطانیہ(نیوز ڈیسک ) میں چیشائر کے سکول کے ہیڈ ٹیچرز نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ اگر انھوں نے اپنے بچوں کو ’کال آف ڈیوٹی‘ اور ’گرینڈ تھیفٹ آٹو‘ جیسی کمپیوٹر گیمز کھیلنے کی اجازت دی تو وہ اعلیٰ حکام کو خبر کر دیں گے۔ہیڈ ٹیچرز کا کہنا ہے کہ ’کال آف ڈیوٹی‘ اور ’گرینڈ تھیفٹ آٹو‘ جیسی کمپیوٹر گیمز 18 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کے کھیلنے کے لیے ہیں اور اگر چیشائر میں رہنے والے والدین نے اپنے بچوں کو یہ گیمز کھیلنے سے منع نہ کیا تو انھیں ’کہیں کہیں غفلت کا مرتکب‘ قرار دیتے ہوئے اعلیٰ حکام کو اس کی اطلاع کر دی جائے گی۔نینٹیچ ایجوکیشن پارٹنرشپ گروپ کے 16 سکولوں نے اس سلسلے میں بچوں کے والدین کو ایک خط لکھا ہے۔ ہیڈ ٹیچرز کا کہنا ہے کہ ان دونوں کمپیوٹر گیمز میں نامناسب حد تک تشدد پایا جاتا ہے۔سکولوں کے سربراہوں کا دعویٰ ہے کہ ایسی کمپیوٹر گیمز کھیلنے اور سوشل میڈیا کی کچھ ویب سائٹس تک رسائی سے نوجوان میں جنسی رویوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا کی کچھ سائٹس پر جانے اور ان گیمز کے کھیلنے سے یہ بچے جنسی استحصال کا بھی شکار بن سکتے ہیں۔میری ہینیسی جونز، جنھوں نے والدین کے نام خط کا مضمون بنایا ہے کہتی ہیں ’آج کل کے ڈیجیٹل دور میں ہم والدین کی مدد کر رہے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو جتنا محفوظ رکھ سکتے ہیں رکھ لیں۔ بچوں کے لیے بہت آسانی سے خرابی پیدا ہو سکتی ہے اور اگر ہم والدین کو واضح ہدایات دیں تو ان سے انھیں مدد ملتی ہے۔ ‘اس مہینے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اعلان کیا تھا اگر ذمہ دار عہدوں پر فائز بڑوں نے، بچوں کے ساتھ زیادتی یا غفلت کے الزامات پر کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس کی اطلاع نہ دی ہوئے تو انھیں پانچ سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…