جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

روزانہ 4گھنٹے کی ورزش ،وزن گھٹانے کی سرجری کا متبادل بن سکتی ہے

datetime 29  مارچ‬‮  2015 |

لاس اینجلس (نیوزڈیسک)لاس اینجلس میں کی جانے والی ایک تحقیق کی روشنی میں ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ موٹاپے کا شکار افراد اگر روزانہ چار گھنٹے کی ورزش اور ڈائٹنگ کے شیڈول پر سختی سے عمل کریں تو اس سے وہی نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں جو کہ وزن کی کمی کیلئے سرجریز کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ اس سرجری کے نتیجے میں موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس کے علاوہ مسلز کا ڈھیلا پڑ جانا، ہڈیوں کا پتلا ہونا اور ذہنی صحت کی خرابی جیسے مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس سرجری کو اگرچہ موٹاپے کا علاج تو تصور کیا جاتا ہے تاہم اسے زیادہ مقبول نہیں کیا جاسکا ہے۔اس تحقیق میں شامل ڈاکٹر رابرٹ نے شدید موٹاپے کا شکار لوگون کیلئے ایک پروگرام شروع کیا تھا جس کا بنیادی مقصد ایسے لوگوں کی مدد کرنا تھا جو موٹاپے کا شکار ہیں۔ ان افراد کیلئے ڈاکٹر رابرٹ نے باقاعدہ ایک ورزشی منصوبہ ترتیب دیا اور ان کے کھانے پینے کا بھی ایک شیڈول بنایا۔ سرجری کے برعکس اس ورزشی پروگرام کے ذریعے کیلوریز کے جلنے کی رفتار تیز ہوتی ہے جس سے مسلز کے مقدار میں اضافہ ہوتا ہے اور یوں ذیابیطس اور دیگر بیماریوں کیخلاف قوت مدافعت بڑھانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ اس ورزشی پروگرام کے تحت موٹے لوگوں کو ڈیڑھ گھنٹے کی سخت سرکٹ ٹریننگ ہفتے کے چھ دن کروائی گئی، اس کے ساتھ ساتھ ان کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ اس وقت کے علاوہ بھی دن میں تین گھنٹے ورزش پر صرف کریں۔ اس کے علاوہ انہیں کم چکنائی کی حامل پروٹین سے بھرپور خوراک اور تازہ پھل و سبزیاں بھی کھانے کیلئے دی گئیں۔ اس ورزشی منصوبے میں تیرہ مختلف لوگوں کو منتخب کیا گیا تھا، یہ تمام لوگ اسی قدر قد اور وزن کے حامل تھے جس کے حامل افراد عموماً وزن کم کرنے کی سرجریز کا سہارا لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ایسے لوگوں کا بھی مشاہدہ کیا گیا جو کہ سرجری سے گزرے تھے۔ تقریباً سات ماہ تک جاری رہنے والی اس تحقیق کے دوران اس گروہ میں شامل ہر فرد نے تقریباً48.8کلو گرام کے قریب وزن کم کیا تھا جس کے بعد انہیں ورزشی پرورگرام سے خلاصی مل گئی دوسری جانب آپریشن کے ذریعے اتنے ہی وزن کے حامل افراد تقریباً35.6کلو تک وزن کم کرسکے تھے۔ بارہ ماہ کے اختتام پر سرجری سے گزرنے والے افراد کا وزن چالیس کلو تک گر چکا تھا جو کہ تقریباً اتنا ہی تھا جتنا کہ دیگر افراد نے ورزشی پروگرام کے ذریعے کم کیا تھا۔اس تحقیق کی روشنی میں ڈاکٹر رابرٹ کہتے ہیں کہ وہ افراد جن کا وزن قد کے مقابلے میں دس سے بیس کلو کے قریب زیادہ ہو، وہ ورزش کے ذریعے وزن کم کرلیتے ہیں ،انہیں اس کیلئے محض ہمت دلائے جانے اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے، دوسری جانب ایسے افراد جن کا موٹاپا خطرناک حدوں کو چھو رہا ہو، انہیں ایسا لگتا ہے کہ اب وزن کم کرنا ناممکن ہے اور اسے کم کرنے کی واحد صورت آپریشن ہے۔ ڈاکٹر رابرٹ کا یہ پروگرام ان افراد کے ذہن میں موجود اسی مفروضے کو غلط ثابت کرنے کیلئے ترتیب دیاگیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…